جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

اٹلی میں مسجدوں کی کمی بڑا مسئلہ بن گئی ، 16لاکھ مسلمانوں کےلئے صرف 8 مساجد

datetime 8  مئی‬‮  2016 |

روم/لندن (نیوز ڈیسک) اٹلی میں مسجدوں کی کمی بڑا مسئلہ بن گئی ، اٹلی میں16لاکھ مسلمانوں کےلئے صرف 8 مسجدیں ہیں، دوسری طرف بلجیم وزیر کو خوف لاحق ہے کہ یور پ میں بہت جلد مسلمانوں کی تعداد عیسائیوں سے زیادہ ہوجائے گی۔برطانوی اخبار” دی سن“ کے مطابق بلجیم وزیر نے دعوی کیا ہے مسلمانوں کی تعداد یورپ میں عیسائیوں سے زیادہ ہوجائے گی، یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کوین گرین نے کہا کہ یورپی یونین کو اس بات کا ابھی احساس نہ ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ بلجیم میں 6سے7لاکھ مسلمان آباد ہیں ۔دوسری طرف ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق اٹلی میں ایک عشاریہ 6 ملین آبادی کے ملک میں8مسجدیں ہیں،فرانس جہاں مسلمانوں کی آبادی اٹلی سے تین سے چار گنا زیادہ ہے وہاں مسجدوں کی تعداد2200ہے ،فرانس کا سیکولر آئین ریاست کو کسی بھی عبادت کی عمارت کو تعمیر کرنے سے منع کرتا ہے۔برطانیہ میں جہاں مسلمانوں کی آبادی28لاکھ کے قریب ہے اور یہ آبادی اٹلی کے مقابلے میں دگنی ہے وہاں مسجدوں کی تعداد 1500ہے۔پاڈوایونیورسٹی کے محقق اور اٹلی کی مساجد کتاب کے مصنف کے مطابق اٹلی میں مساجد کے علاوہ 800 ثقافتی مراکز اور مصلح خانے ہیں جنہیں رسمی طور پر عبادت کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اٹلی میں اکثر مسلمان گیراج،تہہ خانے اور گوداموں کو عبادت کےلئے استعمال کرتے ہیں۔اٹلی میںمساجد کی کمی کے کئی عوامل میں پہلی وجہ یہ ہے کہ اٹلی میںاسلام کوباضابطہ طور پر ایک مذہب کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا جیسا کہ رومن کیتھولک چرچ کو تسلیم کیا جاتا ہے۔اگراٹلی میںعوام کی طرف سے مسجدوں کے فنڈز اکھٹے بھی کرلیے جائیں تو مسجدوں کو کھولنے کیلئے حکام کی طرف سے اجازت ملنا بہت مشکل ہےاور اکثر مقامی کمیونیٹیز کی طرف سے مسجد کی تعمیر کی مخالفت سامنے آجاتی ہے۔تاہم مذہبی مقامات کی تعمیر کے سلسلے میں اٹلی کے مسلمان بیرونی دنیا کے مسلمان ممالک کی طرف سے فنڈنگ پر انحصار کرتے ہیں جن کی مثالیں روم میں مسجد کی تعمیر میں سعودی عرب اور کئی دیگر مذہبی اداروں کی تعمیر میں قطر کی طرف سے فنڈنگ سامنے ہے۔تاہم انتہاپسندی کے خدشے کے پیش نظر عبادت گاہوں کےلئے بیرونی فنڈنگ کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔اٹلی کے باشندے زیادہ تر کیتھولک کے پیروکار ہیں ،تاہم چالیس لاکھ آبادی کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتی۔جنوری 2016تک، وزارت داخلہ کے مطابق اٹلی میں 50لاکھ تارکین وطن آباد ہیں جو اٹلی کی مجموعی آبادی کا 8عشاریہ4فی صد ہیں۔اٹلی میں ہر تین میں سے ایک تارکین وطن مسلمان ہے جو مجموعی آبادی کا 2اعشاریہ 6فی صد ہے۔ تاہم2030میں اس میں دگنا اضافہ ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…