پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

خدشہ ہے کہ کہیں پانامہ لیکس کا معاملہ کسی غیر آئینی اقدام کی طرف نہ چلا جائے،مولانا فضل الرحمن

datetime 7  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ خدشہ ہے کہ کہیں پانامہ لیکس کا معاملہ کسی غیر آئینی اقدام کی طرف نہ چلا جائے،وزیراعظم کا استعفیٰ پانامہ پیپرز کی تحقیقات سے وابستہ ہے، اتحادی جماعتوں کو اپوزیشن کے ٹی او آرز پر تحفظات ہیں‘ ٹی او آرز آئین اور قانون سے متصادم ہیں،اپوزیشن ٹی او آرز کو متنازعہ بنانا چاہتی ہے‘ اپوزیشن کو سنجیدہ دائرے میں رہ کر اپنی بات کرنی چاہئے۔ وہ ہفتہ کو مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ اعجاز الحق ‘ وفاقی وزیر ہاؤسنگ اکرم درانی‘ نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاصل بزنجو‘ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی‘ جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر کے ہمراہ وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اپوزیشن کے مجوزہ ٹی او آرز حکومت کو موصول ہوئے ہیں جس پر وزیراعظم نواز شریف نے ہمیں اعتماد میں لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنے ہر مطالبے سے پیچھے ہٹی۔ اپوزیشن کے مطالبے پر چیف جسٹس کو خط لکھا گیا۔ اپوزیشن کو ریٹائرڈ جج تسلیم نہیں‘ ریٹائرڈ بیوروکریٹ کی ماتحتی میں کمیشن چاہتے ہیں پارلیمانی سطح پر تحقیقاتی کمیٹی کا مطالبہ آیا تو بھی اپوزیشن پیچھے ہٹ گئی، جمہوریت پسند لوگوں کے ہر سطح پر احساسات ایک جیسے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کو اپوزیشن کے ٹی او آرز پر تحفظات ہیں‘ ٹی او آرز آئین اور قانون سے متصادم ہیں ‘اپوزیشن ٹی او آرز کو متنازعہ بنانا چاہتی ہے‘ اپوزیشن کو سنجیدہ دائرے میں رہ کر اپنی بات کرنی چاہئے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خدشہ ہے کہ یہ معاملہ کسی غیر آئینی اقدام کی طرف نہ چلا جائے، وزیراعظم نواز شریف کا استعفیٰ پیپرز کی تحقیقات سے وابستہ ہے،ہم نے اپنے تحفظات پہنچا دیئے ہیں، حتمی فیصلہ حکومت کو کرنا ہے۔(اح)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…