ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

پاناما پیپرزسامنے لانے والے شخص نے خاموشی توڑ دی،حکام کو مدد کی پیشکش کے بدلے معافی کا مطالبہ

datetime 7  مئی‬‮  2016 |

برلن(نیوز ڈیسک) پاناما پیپرز کو لیک کرنے والے مخبر ‘جون ڈو’ نے لیکس کے پیچھے موجود دستاویزات کو حکومتوں کو فراہم کرنے کی پیشکش کے ساتھ ساتھ مناسب تحفظ کا مطالبہ کردیا۔جرمن اخبار اور انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلسٹ (آئی سی آئی جے) کو جاری کیے گئے بیان میں گمنام ذرائع ‘جون ڈو’ نے واضح کیا کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر کسی حکومت یا انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے کام نہیں کرتے اور ان دستاویزات کو لیک کرنے کے فیصلے کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد نہیں تھے بلکہ انھوں نے یہ کام ‘ناانصافیوں کے بیان کردہ پیمانے’ کی وجہ سے کیا۔دی ریولوشن وِل بی ڈیجیٹائزڈکے عنوان سے شائع ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘اگر صرف قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں ہی ان اصل دستاویزات تک رسائی حاصل کرکے ان کی جانچ کرلیں تو پاناما پیپرز سے ہزاروں کی تعداد میں مقدمات کا آغاز ہوسکتا ہے۔ آئی سی آئی جے اور ان کی شراکت دار پبلیکیشن نے درست کہا ہے کہ وہ انھیں کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کو فراہم نہیں کریں گے لیکن میں اْس حد تک قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کروں گا، جتنا میں کرسکتا ہوں۔ایڈورڈ اسنوڈن اور بریڈلے برکن فیلڈ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈو نے مخبروں کے لیے مخصوص تحفظ کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ‘جائز مخبر’ حکومتی عتاب سے استثنیٰ کا مستحق ہے۔پاناما پیپر کو سامنے لانے والے شخص نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے لائفرم ‘موزیک فانسیکا’ کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ اس وجہ سے کیا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس کے بانی، ملازمین اور کلائنٹس کو جواب دہ ہونا چاہیے کیونکہ کاغذی کمپنیاں بالعموم نہ صرف ٹیکس چوری کے جرم میں ملوث ہوتی ہیں بلکہ انھیں سنگین جرائم کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ڈو نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ نظام امیروں کو قانون کی گرفت میں لانے میں ناکام ہوگیا ہے اور میڈیا اور قانون بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہا۔ ان کا خیال ہے کہ بینکوں، مالیاتی ریگولیٹرز اور ٹیکس حکام ‘امیروں کو چھوڑنے’ اور درمیانے اور کم آمدنی والے شہریوں کو قابو کرنے کے فیصلوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وکلاء بھی بڑی حد تک کرپٹ ہیں جبکہ بڑے بڑے دعووں کے باوجود متعدد بڑے میڈیا اداروں نے اس معاملے کی کوریج نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جن کے ایڈیٹرز کو پاناما پیپرز کی دستاویزات کا جائزہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔ڈو کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ کڑوا سچ یہ ہے کہ دنیا کی بڑی اور مشہور میڈیا تنظیموں میں سے کوئی ایک بھی اس اسٹوری میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا، حتیٰ کہ وکی لیکس نے بھی اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…