پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف اورپانامہ لیکس ،سینیٹر اعتزاز احسن اپنی ’’ماہرانہ قانونی رائے ‘‘سامنے لے آئے

datetime 4  مئی‬‮  2016 |

کراچی (نیوزڈیسک) پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ نوازشریف ایک طرف تو پانامہ لیکس کے بعد ملزم بن گئے ہیں اور اب وہی فرد جرم عائد کریں گے۔ اصولی طور پر انہیں مستعفی ہو جانا چاہئے۔ اپوزیشن جماعتوں کے ٹی آر اوز منظور کر لئے جائیں تو کسی بھی کمیشن کی ضرورت نہیں رہتی ہے ۔وزیر اعظم اپوزیشن کے ٹی او آرز کے تحت خود کو تحقیقات کیلئے پیش کریں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ نوازشریف پر لازم ہے کہ وہ1985 سے 2016 تک تمام ذرائع، اثاثوں میں اضافہ اور سالانہ ٹیکس بتایا جائے اور اب تک اپنے تمام ذرائع آمدن ڈکلیئر کریں۔ وزیراعظم بتائیں ان کا پیسہ کس طرح بیرون ملک گیا، ٹیکس کیوں ادا نہیں کیا گیا، پیسا کہاں سے آیا اور کس اکاونٹ میں گیا، کتنی آف شور کمپنیاں ہیں سب بتایا جائے۔ جب کوئی شخص جائیداد کا اعتراف کرلیتا ہے تو بارِ ثبوت اسی پر ہوتا ہے اور اسے جائیداد کی خریداری کی مکمل معلومات فراہم کرنی ہوتی ہیں احتساب کا عمل وزیر اعظم سے شروع ہوگا کیونکہ وہ ہر روز احسان جتاتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں جس نے جائیداد خود نہ بنائی ہو وہ املاک اپنے نام نہیں رکھتا، اسی لیے حسین نواز نے جائیداد اپنے نام نہیں رکھی۔ وزیراعظم کے اثاثے میٹرو بس اور موٹروے کے کمیشن پر بنے ہیں۔ بڑے بڑے کنٹریکٹ پر ٹانکے لگا کر پارسائی کا دعوی کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نہیں بلکہ پاناما پیپرز میں موجود ہر نام کا احتساب ہونا چاہیے، جبکہ اس عمل کا آغاز وزیر اعظم سے ہونا چاہیے۔ اپوزیشن کی دو جماعتوں کے علاوہ تمام جماعتیں وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگنے کے حق میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے اتحاد کا آغاز اچھا ہے اپوزیشن جماعتوں کے ٹی آر اوز منظور کر لئے جائیں تو کسی بھی کمیشن کی ضرورت نہیں رہتی۔ وزیراعظم نواز شریف اپوزیشن کے ٹی اوآرز کے تحت خود کو تحقیقات کیلئے پیش کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…