امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی نے امریکی وزیر خارجہ کو ایک خط میں پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف دوغلی پالیسی جاری رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے امریکی پالیسی کو تبدیلی کرنے اور پاکستان کے خلاف پابندیاں عائد کرنے اور پاکستان کے بارے میں پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ وزارت خارجہ نے تاحال اس خط پر کسی قسم کے رد عمل کے اظہار سے اجتناب کرتے ہوئے کہا ہے اس خط کے مندرجات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایوان نمائندگان میں امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین ایڈ رائس اور رپبلکن سینئر رکن ایلیٹ اینگل نے خط میں امریکہ کو پاکستان کے بارے میں پالیسی میں بڑی تبدیلی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں میں صحیح معنوں میں تب تک کوئی شراکت نہیں ہو سکتی جب تک کہ پاکستان تمام دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مکمل طور سے تعلقات نہیں ختم کرتا۔ ایوان نمائندگان میں امورِ خارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین ایڈ رائس نے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کو خط لکھ کر کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے معاملے میں ایک نیا رخ اپنانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے لکھا ہے، ’ہم گزارش کرتے ہیں کہ آپ پاکستان پر سفری پابندیاں لگائیں، ان کو جو مدد دی جاتی ہے اس کے کچھ حصوں پر لگام كسیں اور جن پاکستانی اہلکاروں کے دہشتگرد اداروں کے ساتھ تعلقات ہیں ان پر پابندیاں عائد کریں۔‘ انھوں نے لکھا ہے کہ ’پاکستانی حکومت نے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کچھ اقدامات کیے ہیں لیکن ایسے کئی ادارے جنہیں دہشت گرد قرار دیا گیا ہے جیسے لشکرِ طیبہ، لشکرِجھنگوي اور جیشِ محمد، ان کے خلاف کچھ خاص کارروائی نہیں ہوئی ہے۔‘ ان کا کہنا ہے ’یہ پالیسی اس سوچ کے تحت ہے جس میں سمجھا جاتا ہے کہ کچھ دہشت گرد ادارے بھارت اور افغانستان میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے کام آ سکتے ہیں۔‘ خارجہ معاملات کی یہ کمیٹی کافی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے چیئرمین ریپبلكن ہیں اور نائب چیئرمین ڈیموكریٹ ہیں اس لیے اسے دونوں ہی پارٹیوں کی نمائندگی حاصل ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ ’ہم پاکستان کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ وہ حقانی نیٹ ورک پر جلد ہی پابندی لگا دے گا لیکن ہمیں شک ہے کہ اس سے پاکستان کی پالیسی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔‘ ان کا کہنا ہے، ’آخر لشکرِطیبہ اور جماعت الدعوۃ جیسی تنظیموں پر تو پابندی لگی ہوئی ہے لیکن وہ آزادی سے گھوم رہے ہیں۔ کچھ ہی دنوں پہلے 25 جنوری کو کراچی میں جماعت الدعوۃ کی ریلی ہوئی جسے دیکھ کر لگا رہا تھا کہ حکومت نے اس کی منظوری دے رکھی ہے۔‘ انھوں نے لکھا ہے کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار بنا ہے اور 2013 میں 3،000 سے زیادہ پاکستانی شہری اس کا شکار بنے۔ لیکن پاکستان کو صحیح معنوں میں اپنے لوگوں کی زندگی بہتر کرنی ہے تو اس کے رہنماؤں کو پرانی پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ دفترِ خارجہ کی ترجمان جین ساكی نے کہا ہے کہ انھوں نے فی الحال یہ خط نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی وہ اس بات کی تصدیق کر سکتی ہیں کہ وزیرِ خارجہ جان کیری نے اسے دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کے اس خط کا جواب دیا جائے گا۔ اس کے پہلے ہندوستان اور پاکستان کے وزيرِ اعظم کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے رشتوں میں بہتری پوری جنوبی ایشیا میں امن و امان اور سلامتی کے لیے اہم ہے۔
’پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر اظہار تشویش‘
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اسلام آباد کی مسجد میں حملہ کرنیوالے خودکش بمبار کی شناخت ہوگئی
-
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش، محکمہ موسمیات کا شہریوں کو الرٹ جاری
-
وزارت خزانہ نے گریڈ 1تا15 کے سرکاری ملازمین کو خوشخبری سنا دی
-
متحدہ عرب امارات کا پاکستانیوں کیلئے ورک ویزے سے متعلق بڑا اعلان
-
متنازع مواد دیکھ کر شہریوں نے ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جو فوراً وائرل ہوگئیں
-
عمران خان پر حملے کے مجرم کو مزید سزا سنادی گئی
-
عرب حکمرانوں کی شکار کیلئے پاکستان آمد، مقامی زمینداروں اور انتظامیہ کی اوچھی حرکات سابق آئی جی ذو...
-
سعودی عرب میں پہلاروزہ کب ہوگا، ماہرین فلکیات نے بتا دیا
-
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 21 ہزار سے زائد کی کمی
-
پاکستان میں پہلا روزہ کب متوقع ہے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی
-
اسلام آباد میں خود کش دھماکا، متعدد افراد زخمی، ہلاکتوں کا خدشہ
-
نوشکی،احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ، پل بھی دھماکے سے اڑا دیا گیا
-
نئے کرنسی ڈیزائن نوٹ عید پر دستیاب ہوں گے یا نہیں؟ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا
-
نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کے اجرا بارے گورنر اسٹیٹ بینک کا اہم اعلان



















































