اسلام آباد (نیوزڈیسک)بچوں میں مقبول کہانی جنگل بک پر بننے والی فلم کو انڈیا میں سنسر بورڈ نے بہت زیادہ ‘خوفناک’ قرار دے کر یو اے سرٹیفکیٹ جاری کردیا ہے۔انڈین سنسر بورڈ کے خیال میں فلم کے تھری ڈی گرافکس اور ساﺅنڈ ایفیکٹس بچوں کے لیے بہت زیادہ ‘خوفناک’ ہیں۔یو اے سرٹیفکیٹ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی فلم کو دیکھنے کے لیے 12 سال سے کم عمر بچوں کو والدین کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا میں بھی ڈرنی اسٹوڈیوز کی اس فلم کو ‘پیرنٹل گائیڈنس’ ریٹنگ دی گئی ہے۔
سنسر بورڈ کے سربراہ پہلاج نہلانی نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا ‘جس طرح رولر کوسٹر رائیڈ پر وارننگ دی جاتی ہے، سنسر بورڈ کے پینل کو بھی ایسا لگا کہ یہ فلم بہت خوفناک ہے اور مشورہ دیا ہے کہ والدین خود فیصلہ کریں کہ یہ چھوٹے بچوں کے دیکھنے کے لیے مناسب ہے یا نہیں’۔ان کا مزید کہا تھا ‘اگر پروڈیوسرز چاہیں تو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا، جب لوگ اس فلم کو دیکھیں گے تو وہ ہمارے خدشات کو سمجھ سکیں گے’۔سنسر بورڈ کے ذرائع کے مطابق فلم کی کہانی کی بجائے ٹیکنالوجی خدشات کا باعث بنی ‘اگر فلم ٹوڈی ٹیکنالوجی میں ہوتی تو اسے یونیورسل سرٹیفکیٹ دیا جاتا’۔اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر سنسر بورڈ کے سربراہ پر کافی تنقید ہوئی، اس سے پہلے بھی انڈین سنسر بورڈ تنازعات کی زد میں رہا ہے۔
بچوں کیلئے بننے والی فلم ” جنگل بک “ بچے نہیں دیکھ سکتے، وجہ انتہائی دلچسپ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وراثت
-
11 جولائی کو عام تعطیل کا اعلان
-
پوڈ کاسٹر ریحان طارق کو مبینہ طور پر گرفتار کر لیا گیا
-
بینکوں میں بھاری رقوم رکھنے والوں کیلئے بری خبر
-
سعودی عرب جانے والے افراد کیلئے خوشخبری
-
سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی کمی، بیٹریاں اور انورٹرز بھی سستے ہوگئے
-
تیل کی قیمت میں 26 سالوں میں سب سے بڑی کمی
-
13سالہ لڑکی سے 5 دن میں 30 افراد کی زیادتی
-
پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ
-
ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی، نیا مون سون سسٹم آج سے فعال، کئی علاقوں میں الرٹ جاری
-
تمھارے لیے کماتا ہوں، میری خواہش پوری کرو؛ بہو نے ناجائز مطالبے پر سسر کوہلاک کردیا
-
پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں گرنے لگیں
-
ممانی کے ساتھ مبینہ تعلقات پر بھانجے نے ماموں کو ہلاک کردیا
-
سولر پلیٹس کی قیمتوں میں کمی



















































