جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دئیے

datetime 7  اپریل‬‮  2016 |

برسلز(نیوزڈیسک)یورپی کمیشن نے یورپ بھر میں سیاسی پناہ کے نئے اور متفقہ قوانین بنانے کی تجاویز پیش کر دیں تاہم کچھ یورپی ممالک نے ان تجاویز پر فوری تنقید بھی شروع کر دی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی کمیشن کی جانب سے پیش کردہ ’ڈبلن قوانین‘ کے نام سے جانے جانے والے سیاسی پناہ کے موجودہ یورپی قوانین میں ترامیم کے خلاف چیک جمہوریہ کا فوری رد عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس معاملے پر یونین کی رکن ریاستوں میں اختلاف رائے کتنا زیادہ ہے۔ڈبلن قوانین کے مطابق یورپی یونین کی حدود میں داخل ہونے والے پناہ کے متلاشی افراد صرف اسی ملک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں جہاں سے وہ یونین کی حدود میں داخل ہوئے ہوں۔ ان قوانین کی وجہ سے غیر یورپی تارکین وطن کا سب سے زیادہ بوجھ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر واقع اٹلی اور یونان جیسے ممالک کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔اس قانون کو منصفانہ اور قابل عمل بنانے کے لیے یورپی کمیشن نے دو تجاویز پیش کیں۔ پہلی تجویز کے مطابق تارکین وطن کو یونان اور اٹلی جیسے ممالک سے نکال کر ایک کوٹے کے تحت دیگر یورپی ممالک منتقل کر دیا جائے گا۔ عارضی طور پر یورپ میں فی الوقت یہی قانون نافذ ہے تاہم اس پر عمل درآمد کی رفتار نہایت سست رہی ہے۔دوسری تجویز میں کہا گیا ہے کہ تارکین وطن چاہے کسی بھی یورپی ملک میں پہنچیں، انہیں لازمی اور مستقل نظام کے ذریعے یونین کے ممالک میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ یورپی یونین کے کمشنر برائے مہاجرت دیمیتریس اورامْوپولوس کا کہنا تھاکہ دونوں صورتوں میں تارکین وطن کو یونین کے رکن ممالک میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ ہمیں اپنے نظام میں ذمہ داری کی منصفانہ تقسیم کے لیے یکجہتی پیدا کرنا ہو گی۔علاوہ ازیں کمیشن کی ایک تجویز کے مطابق آئندہ یورپی یونین کو بحران زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو براہِ راست یورپ لا کر انہیں پناہ دینی چاہیے تاکہ وہ خطرناک راستے اختیار کرتے ہوئے خود یورپ کا رخ نہ کریں۔ اس منصوبے پر بھی یونین کی رکن ریاستوں کی جانب سے ملا جلا ردِ عمل دیکھا گیا ہے۔یورپی کمیشن کی ایک اور تجویز میں کہا گیا ہے کہ یونین کے باہر سے یہاں آنے والے لوگوں کی یورپ میں بے قاعدہ نقل و حرکت روکنے کے لیے اسے قانونی طور پر جرم قرار دیا جائے۔چیک جمہوریہ کے وزیر داخلہ نے ان دونوں یورپی تجاویز پر فوری ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھاکہ سیاسی پناہ کے یورپی قوانین میں اصلاحات کے لیے پھر تارکین وطن کی لازمی تقسیم کی بات کی گئی ہے۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہم یہ قبول نہیں کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…