بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پانامہ پیپرز، رانا ثناء اللہ نے بھی نواز شریف کی حمایت میں بڑی بات کہہ دی

datetime 6  اپریل‬‮  2016 |

لاہور ( نیوز ڈیسک) صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ اگر الزامات کی بنیاد پر لوگ مستعفی ہونے لگیں تو کام کون کرے گا،تحقیقات سے سچ اور جھوٹ کا پتہ چل جائیگا ،پاناما لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ ارخود نوٹس لے سکتا ہے ، ریٹائرڈ جج نیب یا الیکشن کمیشن کا سربراہ ہو سکتا ہے تو جوڈیشل کمیشن کا کیوں نہیں ؟، کمیشن کو فیصلہ کرنا ہو گا دوسرے ملک میں بنی کمپنی کی تحقیقات ہو سکتی ہے یا نہیں ،کسی کے اشاروں پر احتجاج کرنے اور دھرنے دینے والے ایک مرتبہ پھر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی سازشیں ناکام ہوں گی،دھرنے دینے والوں کا ماضی اور حال دونوں ہی مشکوک ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قانون ملک کے اندر اور باہر کاروبار کی اجازت دیتا ہے ،وزیر اعظم نواز شریف کے کمیشن کے قیام کے اقدام کو سراہا گیا ہے اور عوام مجموعی طور پر وزیر اعظم کے اعلان سے مطمئن ہیں۔ پی ٹی آئی کے مٹھی بھر ممی ڈیڈی برگرلوگ احتجاج کررہے تھے تاہم اس مسئلے کیلئے بحث کا بہترین فورم سینیٹ اور قومی اسمبلی ہے۔ اگرکسی کوکمیشن پرتنقید ہے تواپنا مشورہ دے، شامل کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کمیشن کو فیصلہ کرنا ہو گا دوسرے ملک میں بنی کمپنی کی تحقیقات ہو سکتی ہے یا نہیں ۔ تمام معاملات قانونی ہیں ہر پہلو کا جائزہ لینا ہو گا ۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تہمینہ درانی کی تنقید جمہوریت کا حسن ہے ، تہمینہ درانی کی تنقید سے اندازہ لگائیں کہ ہم کتنے جمہوری لوگ ہیں ۔پانامالیکس انکشافات پر مستعفی ہونے کے سوال پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر الزامات کی بنیاد پر لوگ مستعفی ہونے لگیں تو کام کون کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی لانگ مارچ کرنے او ر دھرنے دینے والے کسی کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرتے رہے ہیں لیکن ناکام رہے۔ ان کا ماضی اور حال دونوں مشکوک ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اب بھی یہ کسی کے کہنے پر ایسا کر رہے ہوں ۔ عوام ان لوگوں کو پہلے بھی مسترد کر چکے ہیں اور آئندہ بھی ان کی سازشیں ناکام رہیں گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…