بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

عوامی مزاج کی فلمیں بننی چاہئیں: سارہ لورین

datetime 3  اپریل‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک) معروف اداکارہ وماڈل سارہ لورین نے کہا ہے کہ عوامی مزاج کی فلمیں بننی چاہئیں،کوپروڈکشن کے بغیر عالمی منڈی تک رسائی ممکن نہیں۔کوپروڈکشن کے لیے بھارت سمیت بیشترممالک تک رسائی بہت ضروری ہے اس سے جہاں پاکستان کے دوسرے ممالک سے تعلقات بہترہونگے وہیں پاکستان فلم انڈسٹری کوانٹرنیشنل مارکیٹ تک جانے میں بھی آسانی ہوگی۔ اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ جس طرح پاکستانی فلمیں اسٹوڈیو کی چار دیواری سے باہرنکل کراب خوبصورت مقامات پربنائی جارہی ہیں اوران کے موضوعات اورکردارجاندارہونے لگے ہیں، اسی طرح اگرانٹرنیشنل مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کے لیے کوپروڈکشن سے استفادہ کیا جائے تویقینا غلط نہ ہوگا۔ اس وقت دنیا بھرمیں کوپروڈکشن کا سلسلہ جاری ہے۔اگرہم پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری بالی وڈ کا جائزہ لیں تویہاں سال بھرمیں بننے والی ایک ہزار سے زائد فلموں میں لاتعداد غیرملکی فنکارکام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح بالی وڈ کے متعدد فنکار اب ہالی وڈ میں کام کررہے ہیں اوریہ سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے۔ ماضی میں ہم بہت سی ایسی ہالی وڈ فلمیں دیکھ چکے ہیں جن میں بھارتی فنکاروں نے بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہردکھائے۔ یہ وہ تمام ذرائع ہیں جن کی بدولت آج بالی وڈ دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری بن چکی ہے۔ ہمیں بھی اسی طرح سے پاکستانی سینما کودنیا بھرمیں لے کرجانا چاہیے۔ اس وقت فلموں کا معیار بہت اچھا ہوچکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے فلمیں بنائی جارہی ہیں اورخوش قسمتی سے فلم بین بڑی تعداد میں سینما گھروں کارخ کررہے ہیں۔ہمارے نوجوان فلم میکرز کوبھی کوپروڈکشن بارے سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں سارہ لورین نے کہا کہ بطوراداکارہ میں سمجھتی ہوں کہ انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی کے لیے سب سے پہلے ہمیں بہترین اورعمدہ کہانی تلاش کرنی چاہیے۔ اس کے بعد فنکاروںکا انتخاب اورلوکیشنز پرتوجہ دینی چاہیے تاکہ جب ہماری فلم دنیا کے بیشترممالک میں بیک وقت نمائش کے لیے ریلیز ہوتواس کودیکھنے والے چند منٹ بعدہی سینماہال سے باہر نہ نکل جائیں۔ ہمیں بہت سوچ سمجھ کراورسروے کے بعد لوگوں کے مزاج کومدنظررکھتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھرہمیں بہت جلد اپنی اننگز ختم کرکے ہوم گراو¿نڈ تک محدود رہنا ہوگا جو ہمارے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…