بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

عوامی مزاج کی فلمیں بننی چاہئیں: سارہ لورین

datetime 3  اپریل‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک) معروف اداکارہ وماڈل سارہ لورین نے کہا ہے کہ عوامی مزاج کی فلمیں بننی چاہئیں،کوپروڈکشن کے بغیر عالمی منڈی تک رسائی ممکن نہیں۔کوپروڈکشن کے لیے بھارت سمیت بیشترممالک تک رسائی بہت ضروری ہے اس سے جہاں پاکستان کے دوسرے ممالک سے تعلقات بہترہونگے وہیں پاکستان فلم انڈسٹری کوانٹرنیشنل مارکیٹ تک جانے میں بھی آسانی ہوگی۔ اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ جس طرح پاکستانی فلمیں اسٹوڈیو کی چار دیواری سے باہرنکل کراب خوبصورت مقامات پربنائی جارہی ہیں اوران کے موضوعات اورکردارجاندارہونے لگے ہیں، اسی طرح اگرانٹرنیشنل مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کے لیے کوپروڈکشن سے استفادہ کیا جائے تویقینا غلط نہ ہوگا۔ اس وقت دنیا بھرمیں کوپروڈکشن کا سلسلہ جاری ہے۔اگرہم پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری بالی وڈ کا جائزہ لیں تویہاں سال بھرمیں بننے والی ایک ہزار سے زائد فلموں میں لاتعداد غیرملکی فنکارکام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح بالی وڈ کے متعدد فنکار اب ہالی وڈ میں کام کررہے ہیں اوریہ سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے۔ ماضی میں ہم بہت سی ایسی ہالی وڈ فلمیں دیکھ چکے ہیں جن میں بھارتی فنکاروں نے بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہردکھائے۔ یہ وہ تمام ذرائع ہیں جن کی بدولت آج بالی وڈ دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری بن چکی ہے۔ ہمیں بھی اسی طرح سے پاکستانی سینما کودنیا بھرمیں لے کرجانا چاہیے۔ اس وقت فلموں کا معیار بہت اچھا ہوچکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے فلمیں بنائی جارہی ہیں اورخوش قسمتی سے فلم بین بڑی تعداد میں سینما گھروں کارخ کررہے ہیں۔ہمارے نوجوان فلم میکرز کوبھی کوپروڈکشن بارے سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں سارہ لورین نے کہا کہ بطوراداکارہ میں سمجھتی ہوں کہ انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی کے لیے سب سے پہلے ہمیں بہترین اورعمدہ کہانی تلاش کرنی چاہیے۔ اس کے بعد فنکاروںکا انتخاب اورلوکیشنز پرتوجہ دینی چاہیے تاکہ جب ہماری فلم دنیا کے بیشترممالک میں بیک وقت نمائش کے لیے ریلیز ہوتواس کودیکھنے والے چند منٹ بعدہی سینماہال سے باہر نہ نکل جائیں۔ ہمیں بہت سوچ سمجھ کراورسروے کے بعد لوگوں کے مزاج کومدنظررکھتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھرہمیں بہت جلد اپنی اننگز ختم کرکے ہوم گراو¿نڈ تک محدود رہنا ہوگا جو ہمارے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوگا۔



کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…