اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

طالبان کو میرا سٹائل پسند نہیں آیا، شہباز تاثیر آخر کار بہت کچھ بول پڑے

datetime 1  اپریل‬‮  2016 |

لاہور( نیوز ڈیسک)ساڑھے چار سال بعد بازیاب ہونے والے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر نے ٹوئٹر پرلوگوں کے سوالات کے جوابات دئیے ،ٹوئٹر پر ان کا یہ سیشن بےحد مقبول ہوا اور پھر ہیش ٹیگ AskST# ٹرینڈ کرنا شروع ہو گیا۔شہباز تاثیر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لوگوں کے تجسس بھرے سوالات کے جواب دئیے۔ لوگوں نے نہ صرف شہباز تاثیر بلکہ ان کی اہلیہ ماحین تاثیر سے بھی سوالات کیے۔کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے منفی تجربے اور خیالات کو کیسے اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیا اور مثبت سوچ کی طرف کیسے راغب ہوئے؟ شہباز نے جواب دیا بس ڈیلیٹ کا بٹن دبا دیا اور ساتھ میں ہنستا چہرہ لگایا۔ایک اور شخص نے پوچھا کہ کیا طالبان نے ان کو اپنے ساتھ شامل ہونے کو کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ طالبان کو میرا سٹائل پسند نہیں آیا۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں شہباز تاثیر نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے میری واپسی کے لیے دعائیں مانگیں اور یہ ایک نہایت عمدہ چیز ہے اور اب انہی لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے میرے دل پر بہت اثر ہوا ہے۔ان کی بیوی ماحین تاثیر سے پوچھا گیا کہ ٹوئٹر پر بات کرنے کا خیال کہاں سے آیا تو انہوں نے بتایا کہ ٹوئٹر پر لوگوں نے کئی دن پہلے ہم سے سوال پوچھنا شروع کئے اور پھر ہم نے سوچا کہ کیوں نہ جواب دیں تو بس اتفاقاً ہی یہ شروع ہو گیامیں نے پوچھا کہ ٹوئٹر پر لوگوں سے شہباز کے واپس آنے پر کھلے دل سے بات کرنا کیسا لگا؟ تو جواب ملا بہت آزادانہ احساس ہوا اور شہباز کو ملنے کے لیے میں سالوں سے انتظار کر رہی تھی اور آخر کار میں اس کے بارے میں بات کر سکتی تھی۔ ایسا لگا کہ میں دوبارہ زندہ ہوئی ہوں اور مجھے اپنی دوبارہ سے پہچان ملی ہے۔ اور سب سے بڑی یہ بات ہے کہ لوگ ہماری خوشی میں ہمارے ساتھ شامل ہوئے ۔ماحین تاثیر سے بتایا کہ خوش قسمتی سے ٹوئٹر پر کسی نے بھی منفی بات نہیں کی۔زیادہ تر جو سوالات پوچھے گئے وہ ان کی عام زندگی سے بچھڑنے کے بارے میں تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…