اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

سینیٹر سراج الحق نے دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کو خوش آئندقرار دیدیا

datetime 30  مارچ‬‮  2016 |

لاہور ( نیوزڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب حکومت کو طے شدہ معاہدہ کے مطابق دھرناکے قائدین کی شرائط کو پورا کرنا چاہئے ،حکومت کے بارے میں عوام کے اندر یہ تاثر پختہ ہوچکا ہے کہ حکمران عوام سے کئے گئے کسی وعدہ کو پورا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ،حکمرانوں نے انتخابات میں 20کروڑ عوام سے کئے گئے وعدوں کو تین سال گزرنے کے بعد بھی پورا نہیں کیا،اسلامی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایاجائے اورحکمرانوںکو ملک میں سیکولر ازم اور لبرل ازم کی باتیں چھوڑ دی جائیں،295-C میں ترمیم نہ کرنے اورتوہین رسالت کے مرتکب کسی مجرم کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتنے کی حکومتی یقین دہانی خوش آئند ہے ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سینیٹ کی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کمیٹی کی سب کمیٹی کے ممبران سینیٹر ڈاکٹر خواجہ کریم اور سینیٹر محسن لغاری کے ہمراہ سمندری پانی سے متاثرہ علاقہ سجاول کا دورہ کیا ۔جہاں کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ گزشتہ عرصہ میں سمندر علاقے کی 20لاکھ ایکٹر زمین کو نگل چکا ہے اور لاکھوں نفوس پر مشتمل ارد گرد کی آبادیوں کو شدید خطرے نے گھیر رکھاہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں کی آبادی کا روز گار کا بڑا ذریعہ مچھلی کا شکار ہے مگر سمندر کا پانی ملنے کی وجہ سے زیر زمین پانی بھی کڑوا اور کھارا ہوچکا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مچھیرے بے روز گار ہوچکے ہیں اور انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں ۔علاقے کے وفود سے گفتگو کرے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان باہمی ریلیشن شپ اور منصوبہ بندی نظر نہیں آتی ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومت مل کر علاقے کو سمندر برد ہونے سے بچانے کیلئے قلیل المدت اور طویل المدت منصوبہ بندی کریں ۔ مچھیروں کواور متاثرین کو بچانے کیلئے حکومت نے آج تک کوئی لائحہ عمل دیا نہ متاثرین کا ڈیٹا جمع کرکے بے روز گار اور بے زمین ہونے والے متاثرین کی بحالی کیلئے کوئی اقدامات کئے ۔انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ وہ علاقے کے اس مسئلہ کو سینیٹ میں اٹھائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام عرصہ سے اسٹیٹس کو کے غلام چلے آرہے ہیں ۔وڈیروں اور جاگیرداروں نے عوام کی زندگی کو اجیرن اور نسل در نسل غلامی پر مجبور کررکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئین کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا ہے کہ وہ عام آدمی کے حقوق غصب کرے اور لوگوں کی خوشیاں چھین کر انہیں غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک عوام اس ظلم و جبر کے نظام کے خلاف نہیں اٹھیں گے ،ظالم جاگیردار اور وڈیرے ان پر مسلط رہیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…