اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

دہشتگردی کا کوئی منظم نیٹ ورک ہے نہ دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں،رانا ثناء اللہ

datetime 29  مارچ‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) وزیرقانون پنجاب رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پنجاب میں دہشتگردی کا کوئی منظم نیٹ ورک ہے نہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں،میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ پنجاب میں کوئی نوگو ایریا نہیں ہے،پاک فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کو غلط انداز میں لیا جا رہا ہے ،آرمی اوروفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں،ملک میں کچھ ایسے عناصر ہیں کو کسی کو خوش کرنے کے لیے ایسی باتیں کر رہے ہیں،سانحہ لاہور کے بعد پنجاب بھر میں 56 آپریشن پولیس، 16 سی ٹی ڈی، اور 88 آپریشن لوکل پولیس نے ایجنسیوں کے ساتھ ملکر کیے گئے ہیں۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرقانون پنجاب رانا ثنااللہ کاکہنا تھا کہ سانحہ گلشن پارک کے زخمیوں کا بہترین اور مفت علاج کیا جارہا ہے جب کہ کسی زخمی کو علاج کے لیے بیرونی ملک بھیجنا پڑا تو گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج نے وزیرستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نست ونابود کیاجبکہ پنجاب میں بھی اس سانحہ سے قبل نیشنل ایکشن پلان کے مطابق مشترکہ کارروائیاں ہوتی رہی ہیں جس میں پولیس، فوج اور دیگر فورسز کے جوان شامل رہے، پنجاب میں 56 آپریشن پولیس، 16 سی ٹی ڈی، اور 88 آپریشن لوکل پولیس نے ایجنسیوں کے ساتھ ملکر کیے، ضرورت پڑنے پرفوج بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پرکارروائی کرتی رہی ہے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ پنجاب میں دہشتگردی کا کوئی منظم نیٹ ورک ہے اور نہ ہی دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جبکہ دعوے سے کہتا ہوں کہ پنجاب میں کوئی نوگو ایریا نہیں بھی نہیں ہے،وزیر اعظم نواز شریف کی سخت ہدایت پرانٹیلی جنس بیسڈ آپریشنزکی تعدا د بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر سے 5 ہزار 221 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 216 کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے جبکہ دیگر کو تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا، 1550 افراد فورتھ شیڈول میں شامل ہیں، جن پر کڑی نگاہ رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مدرسوں کا مکمل رکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے جب کہ سانحہ گلشن پارک پر جے آئی ٹی بھی بنادی گئی ہے جس میں سی ٹی ڈی سمیت دیگر ایجنسیوں کے لوگ شامل ہیں۔وزیرقانون کا مزید کہنا تھا کہ وزیرستان میں ہماری فورسز نے دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کیا جا رہا ہے،پنجاب سمیت تمام صوبوں میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں،صوبوں میں زیادہ تر آپریشنز خفیہ اطلاعات پر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جیو ٹیکنگ کے بعد 532مدارس کی نشاندہی پر کڑی نگرانی کی جاری ہے،جبکہ جیو ٹیکنگ کے بعد 15ہزار مدارس کا ریکارڈ جمع کیا گیا جو پنجاب حکومت کے پاس ہے،ریکارڈ میں مدارس میں کتنے اساتذہ ،طلباء اور سہولیات سے متعلق تمام تفصیلات موجود ہیں۔واضح رہے 2 روز قبل لاہور کے گلشن پارک میں المناک سانحے میں 72 افراد جان کی بازی ہارگئے تھے جس کے بعد آرمی چیف کی جانب سے پنجاب بھر میں آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…