جمعہ‬‮ ، 27 مارچ‬‮ 2026 

آٹھ لاکھ پناہ گزین لیبیا سے یورپ داخلے کے لیے تیار ہیں، فرانس

datetime 25  مارچ‬‮  2016 |

پیرس(نیوز ڈیسک) فرانسیسی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ یورپ میں بدامنی کے واقعات کے بعد پناہ گزینوں کی آمد کے لیے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیںلیبیا میں آٹھ لاکھ افراد یورپ داخلے کے لیے پرتول رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی وزیردفاع جان ایف لوڈریان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ لیبیا میں آٹھ لاکھ مہاجر یورپ داخل ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ لیبیا سے یورپ میں پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جب شروع ہوا تو ان کی تعداد محض ہزار سو تھی مگر اس وقت لیبیا میں لاکھوں افراد یورپ میں داخل ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔صحافی نے فرانسیسی وزیر سے ان کے دعوے کی تصدیق بابت دوبارہ پوچھا کہ آیا ان کے پاس لیبیا میں آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کی موجودگی کے اعدادو شمار حقیقی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ’میری دانست میں یہ تعداد حقیقی ہے۔فرانسیسی وزیردفاع جان ایف لوڈریان نے کہا کہ ہمیں داعش کے لیے مالی وسائل کا ذریعہ بننے سے روکنے کےلیے پناہ گزینوں کے معاملے کو جلد ازجلد نمٹنا چاہیے۔ یہی وجہ ہےکہ ہم یورپی ممالک سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لیبیا میں متحدہ قومی حکومت کی تشکیل میں معاونت کرے جو لیبیا کے ساحل سے فرار ہونے والے پناہ گزینون کی روک تھام کرسکے۔ اس مشن کے لیے انہوں نے جون 2015ءکے دوران ’صوفیا آپریشن“ کی مثال دی جس میں 22 یورپی ممالک نے ملک کرحصہ لیا تھا۔فرانسیسی وزیر دفاع نے کہا کہ لیبیا میں امن و استحکام اور وہاں سے مہاجرین کی یورپ منتقلی روکنے کے لیے قومی حکومت کی تشکیل ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ یہ حکومت جلد ہی تشکیل پا جائے مگر اس کے لیے علاقائی طاقتوں کو بھی متحرک ہونا پڑے گا۔ ان کا اشارہ مصر، قطر اور ترکی کی جانب تھا جو بہ قول ان کے لیبیا میں مل کر مستحکم حکومت کے قیام میں مدد دے سکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں جان ایف لوڈریان کا کہنا تھا کہ لیبیا میں مستحکم قومی حکومت کی تشکیل کے بعد عالمی برادری لیبیا میں موجود تین بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی کارروائی شروع کرے۔ لیبیا میں موجود داعش کے 4 سے5 ہزار جنگجوو ¿ں کو ختم کرے، انسانی اسلگلنگ کا دھند بند کرائے اور اسلحہ کی ترسیل رکوائے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…