جمعہ‬‮ ، 27 مارچ‬‮ 2026 

طالبان کا افغان حکومت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا اعلان

datetime 23  مارچ‬‮  2016 |

کابل(نیوز ڈیسک) افغانستان میں طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں مذاکرات کا عمل شروع کرنے میں انکار کے بعد طالبان کے اِس اعلان کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔جرمن ریڈیو کے مطابق بدھ کے روز افغانستان میں مسلح تحریک چلانے والی عسکریت پسند تنظیم طالبان نے اعلان کیا کہ وہ کابل حکومت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر راضی ہے۔ اِس مثبت پیش رفت کو افغان منظر پر اہم خیال کیا گیا ہے کیونکہ طالبان اور کابل حکومت کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کا عمل استوار نہیں ہو سکا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہونے پر حکومت اور طالبان مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہو جائیں۔طالبان کے قیدیوں پر تبادلے کے معاملے پر رضامندی سے قبل وہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے حکومتی جیلوں میں مقید عسکریت پسندوں کی رہائی اور غیرملکی افواج کے انخلاءکا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ا ±ن کے کسی سابقہ اعلان میں قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ سامنے نہیں آیا تھا۔ اسی تبدیلی کو ماہرین ایک اہم پیش رفت سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس دوران طالبان نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ’دشمن‘ قوت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیے ایک خصوصی کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے اور یہ کمیشن حکومتی نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کر کے رہائی کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔ایک بیان میں طالبان نے قیدیوں کے تبادلے کے لیے کمیشن کی تشکیل میں یہ اعلان بھی کیا ہے کہ تبادلے کے عمل میں خصوصی قوانین کا اطلاق کیا جائے گا۔ طالبان کی جانب سے خصوصی قوانین کی تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے کہ یہ کس نوعیت کے ہوں گے اور کن قیدیوں پر ان کا اطلاق کیا جائے گا۔ دوسری جانب افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل محمد ردمانش نے اِس عزم کا اظہار کیا کہ اگر طالبان کی قید سے قیدیوں کو رہا کروانا پڑا تو اِس کے لیے خصوصی فوجی آپریشن شروع کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا لیکن سرِدست طالبان کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ کابل حکومت کی اعلیٰ امن کونسل کے ایک رکن شفیع اللہ شافی نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکراتی عمل پر اثرانداز ہونے والے طالبان قیدیوں کی رہائی کی کوشش کی جائے گی۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…