بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

شہباز شریف کا اچانک ڈی ایچ کیو ہسپتال حافظ آباد کا دورہ، عام وین میں سفرکیا

datetime 21  مارچ‬‮  2016 |

لاہور( نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے بغیر کسی پیشگی اطلا ع کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرز ہسپتال حافظ آباد اور لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے اراضی ریکارڈ سنٹر کا اچانک دورہ کیا۔وزیراعلیٰ بغیر پروٹو کول کے عام وین میں سفر کر کے ہسپتال اور اراضی سنٹر پہنچے ۔ وزیر اعلی کیلئے ٹیوٹا کار بھی موجود تھی تا ہم انہوں نے اس میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور عام وین میں اپنے عملے اور دیگر افسران کے ساتھ بیٹھے۔وزیر اعلی کے ساتھ کوئی پروٹوکول گاڑی موجود نہیں تھی اور وہ بیس منٹ کی مسافت طے کر کے پہلے ڈی ایچ کیو ہسپتال آئے اور بعد میں اسی وین میں بیٹھ کر اراضی سنٹر پہنچے۔وزیر اعلی کے دورے کے دوران کسی بھی موقع پر ٹریفک کو نہ روکا گیا بلکہ ان کی وین عام ٹریفک کے ساتھ رواں دواں رہی۔ہسپتال آمد کے بعد وزیر اعلی نے وارڈز میں مریضوں کی عیادت کی اور ان کے لواحقین سے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں اورادویات کی فراہمی کے بار ے دریافت کیا۔وزیراعلیٰ نے وارڈز سے ملحقہ ٹوائلٹس کا بھی معائنہ کیا۔ مریضوں اور ان کے لواحقین نے وزیراعلیٰ کو اپنے مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا۔مریضوں اوران کے اہل خانہ نے مسائل کے حل کے لئے فوری احکامات جاری کرنے پر وزیراعلیٰ کو دعائیں دیں ۔وزیر اعلی نے میڈیسن سٹور روم میں ادویات کے سٹاک کو بھی چیک کیااور ادویات کے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام ادویات کے سٹاک کے آڈٹ کا حکم دیا۔وزیر اعلی کی آمد کی اطلاع ملنے پر سینکڑوں لوگ ہسپتال کے باہر جمع ہو گئے اورانہوں نے وزیر اعلی کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا ۔ وزیر اعلی نے ایک شہری کی شکایت پر ڈی پی او کو ہدایت کی کہ اس کے بیٹے کے قتل میں ملوث ملزمان کو جلد سے جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ہسپتال کے باہر موجود لوگوں نے وزیر اعلی شہباز شریف زندہ باد کے نعرے لگائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…