بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

حکمران ہمارے لئے قبریں اور اپنے لئے کفن تیار کریں،گوادر کیخلاف افسوسناک اعلان ہوگیا

datetime 20  مارچ‬‮  2016 |

حب (این این آئی) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان رکن صوبائی اسمبلی سرداراخترجان مینگل نے کہا ہے کہ جمہوریت کے دعویداروں نے جمہوریت کے قاتل پرویزمشرف کو گارڈ آف آنر پیش کیا اورمحفوظ راستہ دے کر بیرونی ملک پہنچادیا۔ حبکو کول پاور پروجیکٹ اوردیگر صنعتوں کی آلودگیاں ختم ہوجائیں گی۔ حکمران اگر گوادر کی نام نہاد ترقی کے لئے بضد ہیں تو ہمارے لئے قبریں اور اپنے لئے کفن تیار کریں۔ اس ملک میں قانون اورآئین شکنی کوئی جرم نہیں۔ بلکہ حق مانگان سنگین جرم بن گیاہے اور ہم یہ حق مانگنے والا جرم بار بار کریں گے۔ گوادر کی ترقی کے لئے چائنا سے 46ارب ڈالر لینے والوں نے بلوچستان کےلئے 90لاکھ ڈالر رکھے ہیں۔ جن میں بڑی رقم امراءکی آمدورفت ائیرپورٹ بنانے کےلئے خرچ کی جائے گی۔ جبکہ گوادر کے لوگ بسوں کے کرایئے برداشت نہیں کرسکتے تو وہ ہوائی جہازوں کا کرایہ کہاں سے دے سکتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار سرداراخترجان مینگل نے اتوار کے روزز بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع لسبیلہ کے زیراہتمام گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول حب میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سرداراخترجان مینگل نے مزیدکہا کہ میں لسبیلہ کے عہدیداروں ، بی ایس او کے کارکنوں اوربی این پی کے ہمدردوں کا شکریہ اداکرتاہوں کہ اس گرمی میں میرا اور میرے پارٹی عہدیداروں کا والہانہ استقبال کیا اور عزت بخشی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتاہوں کہ وہ ہمیں بلوچ سرزمین اوربلوچ عوام کی حفاظت کےلئے قوت بخشے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں لوگ جوق درجوق بی این پی میں شمولیت اختیار کرنا بی این پی کی کامیابی ہے ۔ بی این پی کو ختم کرنے والوں کو پتہ چل گیاہے کہ بی این پی کو کوئی ختم نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا اتنا ظلم ہندوستان نے کشمیریوں پرنہیں کیا جتنا ہمارے حکمرانوں نے ہم پرکیاہے۔ حکمرانوں کے ظلم کی داستانیں بلوچستان کی سنسان سڑکیں اورگلیاں بتارہی ہیں ۔ ستر سالوں سے بلوچستان کے مظلوم عوام پرظلم کے پہاڑ توڑے گئے شاباش ہے اس قوم کو نہ گردن جھکائی اورنہ ہی خدان کے سامنے جھکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے ظالم تھے وہ جو آج جو خود کو مظلوم کہلارہے ہیں اورجو مظلوم ہیں انہیں ظالم کہا جارہاہے۔ ہم سے ہماری دھرتی چینی گئی، زبان چھینی گئی، کلچر چھیناگیا اور پھربھی غدارکہاجارہاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…