بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

جنرل ضیاء میری مقبولیت سے خائف تھے،جنرل(ر) فیض علی چشتی

datetime 20  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض علی چشتی نے کہا ہے کہ میں نے پاکستان بنتے دیکھا اب ڈوبتے دیکھ رہا ہوں میں نے بھٹو خاندان کو کوئی تکلیف نہیں دی مجھے ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی جنرل ضیاء الحق میری مقبولیت سے خائف تھے ایک انٹرویو میں فیض علی چشتی کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیر اعظم بنیں اگر میری وجہ سے بھٹو خاندان کو کوئی تکلیف پہنچی تھی تو بے نظیر بھٹو نے میرے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی اختر عبدالرحمان کے پاس 1965 میں سائیکل تھی ان کے خاندان کے پاس دولت کے انبار کہاں سے آئے ۔ جنرل ضیاء الحق نے کوئی جنگ نہیں لڑی کبھی ایک گولی نہیں چلائی اس کو ذوالفقار علی بھٹو نے آرمی چیف بنا دیا لیکن ضیاء الحق کے پاس خوشامد نامی بہت بڑا ہتھیار تھا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہمارا دشمن نہیں دشمن ہندوازم ہے جو ایک مائنڈ سیٹ کا نام ہے جو برہمنی اپنی 71 فیصد آبادی کو کچھ نہیں دے سکتا وہ ہمیں کیا دے گا دہشت گردی محض ایک ہتھیار ہے ۔ہم نے اپنے لڑکپن میں اور جوانی میں جو سیاستدان دیکھے ان میں آج کے سیاستدان میں بڑا فرق ہے وہ سیاستدان ملک کو دینا جانتے تھے اور آج کے سیاستدان لینا جانتے ہیں دینا نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…