بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

عرب ملک میں پاکستانی کا کارنامہ ،پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند

datetime 19  مارچ‬‮  2016 |

دبئی (نیوز ڈیسک)29 سالہ ، زاہد علی جو کہ دبئی میں بس ڈرائیور ہے ، متعدد بار لوگوں کی بس میں بھولی ہوئی قیمتی چیزیں اور رقم واپس کر چکا ہے۔تفصیلات کے مطابق دبئی میں موجود پاکستانی ڈرائیور نے مسافر کو 52,000 درہم واپس کر دیے جو وہ سفر کے دوران بھول گیا تھا۔پاکستانی ڈرائیور نے مسافروں کی بھولی ہوئی رقم اور قیمتی چیزیں تیسری بار لوٹائی ہیں۔29 سالہ ، زاہد علی کو فروری میں روز مرہ سفر کے دوران ایک بیگ ملا جس میں رقم موجود تھی جو کہ ایک مسافر بس سے اترتے ہوئے بھول گیا تھا۔ زاہد علی کے نیک کام کو سراہتے ہوئے دبئی بس فری ایئر زون کی طرف سے سرٹیفکیٹ سے بھی نوازا گیا۔زاہد علی کو دبئی پولیس کی طرف سے ایک چینی تاجر کی قیمتی رقم لوٹانے کے اعتراف میں بھی انعام سے نوازا گیا۔زاہد جو کہ تین بچوں کا پاب ہے اس کا کہنا ہے کہ اسے اس انعام کی ضرورت نہیں لیکن وہ مسافروں کے اصرار پر اسے اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔زاہد علی کو دوران سفر مسافروں کی طرف سے بھولا ہوا کوئی بھی بیگ یا قیمتی چیز ملتی ہے تو وہ فوراً اسے اعلیٰ حکام کے حوالے کر دیتا ہے ، علی کا کہنا تھا کہ بیگ میں بعض اوقات مسافروں کی قیمتی چیزیں اور پاسپورٹ ہوتا ہے۔زاہد علی کا کہنا تھا کہ لوگوں کے ساتھ یہ تمام باتیں شیئر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دوسرے لوگوں میں بھی نیکی کا جذبہ اور لوگوں کی مدد کرنے کا شعور بیدار ہواور وہ بھی دوسروں کی مدد کرتے ہوئے اپنے ملک کا نام روشن کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…