اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور انہیں علاج کےلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی،چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے کہ حکومت خود کچھ نہیں کرنا چاہتی، اگر حکومت نے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دیتی تو وہ خود فیصلہ کرے،اٹارنی جنرل پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور سنگین غداری کا مقدمہ چلانے کا کریڈٹ لیتے ہیں ۔بدھ کو سپریم کورٹ میں سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے کی۔کیس کی سماعت کے دوران سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کی طبیعت انتہائی ناساز ہے اور ان کا علاج کےلئے بیرون ملک جانا ضروری ہے، پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔ جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ سے سوال کیا کہ کیا آپ کو اس پر کوئی اعتراض ہے۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے دلائل دیئے کہ پرویز مشرف کے خلاف کئی کیسز زیر سماعت ہیں۔ اس لئے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنا مقدمات کی سماعت کو متاثر کرسکتا ہے۔اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ہم عدالت ہی کے احکامات پر عملدرآمد کر رہے ہیں، پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا، سپریم کورٹ کے فیصلے پر مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ درج ہوا۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے کہ حکومت خود کچھ نہیں کرنا چاہتی، اگر حکومت نے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دیتی تو وہ خود فیصلہ کرے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا آپ نام ای سی ایل میں ڈالنے اور سنگین غداری کا مقدمہ چلانے کا کریڈٹ لیتے ہیں، یہاں ہم آپ کو کریڈٹ دینا چاہ رہے ہیں مگر آپ یہ کریڈٹ عدالت کو دے رہے ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد وفاق کی درخواست مسترد کردی اور سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سابق صدرجنرل (ر) پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔سپریم کورٹ کے باہر سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے3 سال تک پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے سے روکا، سابق صدر کئی اہم امور انجام دینے کےلئے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں، سابق صدر پرویز مشرف کو والدہ کی بیماری کے دوران بھی بیرون ملک نہیں جانے دیا گیا، اب پرویز مشرف کی طبیعت بہت خراب ہے، وہ اپنے علاج کےلئے بیرون ملک جائیں گے،پرویز مشرف کے ملک سے باہر جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔(اح)
سپریم کورٹ نے سابق صدر مشرف کو علاج کےلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دےدی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
جون اور جولائی کے فیس واؤچرز! نجی اسکولوں کے لیے نیا حکم نامہ جاری
-
پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کی بڑی وکٹ گرادی
-
ٹرمپ نے ایران سے جن 8 خواتین کو پھانسی نہ دینے کا مطالبہ کیا وہ کون ہیں اور ان پر کیا الزامات ہیں؟
-
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا الرٹ جاری
-
عمران خان 3 پارٹی رہنماؤں سے سخت ناراض
-
راولپنڈی میں ٹریفک جام کے باعث بس سے اتر کر نجی ہوٹل کے کمرے میں قیام کرنے والی ہوسٹس زیادتی کا نشا...
-
مئی 2026 میں پاکستانیوں کو 11 چھٹیاں ملنے کا امکان ،عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
-
سرکاری دفاتر میں جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی ختم
-
ایلون مسک نے کراچی کے نوجوان کی کمپنی کی قیمت 60ارب ڈالر لگا دی
-
سوشل میڈیا پر ترنول ریلوے پھاٹک کو ’’آبنائے ہرمز‘‘ سے تشبیہ دینا شہری کو مہنگا پڑ گیا
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
سولر لائسنسنگ بارے غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں،نیپرا کی وضاحت
-
پاکستانیوں کیلئے اگلے ماہ ایک ساتھ 3روزہ تعطیلات کا امکان
-
سونے اور چاندی کی قیمت میں بڑی کمی



















































