بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

گوادر سے کوئٹہ تک چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کا پہلا حصہ رواں سال دسمبر میں مکمل ہو جائے گا، احسن اقبال

datetime 15  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گوادر سے کوئٹہ تک چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کا پہلا حصہ رواں سال دسمبر میں مکمل ہو جائے گا ، لاہور میں اورنج لائن ٹرین منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ نہیں ، چین کی پرائیویٹ کمپنیاں پاکستان کی حکومت کی توانائی پالیسی کے مطابق توانائی کے منصوبے لگائیں گی۔وہ منگل کو یہاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی کے اجلاس میں بریفنگ د ے رہے تھے احسن اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے لئے کوئی فنڈز مختص نہیں کئے جبکہ صوبائی حکومت اپنے بجٹ اور اپنے وسائل سے یہ اہم منصوبہ مکمل کر رہی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو قومی اہمیت کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ کے تھنک ٹینکس نے بھی اس اہم منصوبے کی وجہ سے پاکستان کو اب انتہائی مثبت تناظر میں دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بڑے منصوبے کو کامیاب بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ میانمار، تھائی لینڈ جیسے ممالک میں بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے، 46 ارب ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد پاکستان بھی دیگر ممالک سے سرمایہ کاری کے حصول کے قابل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پر مکمل اتفاق رائے ہے کیونکہ یہ پاکستان کے لئے انتہائی سازگار منصوبہ ہے۔ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے متعلق احسن اقبال نے کہا کہ چین کی پرائیویٹ کمپنیاں پاکستان کی حکومت کی توانائی پالیسی کے مطابق توانائی کے منصوبے لگائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر سے کوئٹہ تک چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کا پہلا حصہ اس سال دسمبر میں مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر فاٹا یونیورسٹی، ژوب یونیورسٹی اور گوادر یونیورسٹی قائم کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…