بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

عوامی تحریک کے مشتعل کارکنوں سے مذاکرات کی ہر ممکن کوشش کی گئی ‘ ڈی سی او نے انسداد دہشتگردی عدالت میں بیان ریکارڈ کرا دیا

datetime 11  مارچ‬‮  2016 |

لاہور (نیوزڈیسک) انسدا دہشتگردی کی عدالت کے رو برو ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مقدمہ میں اپنا ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی تحریک کے مشتعل کارکنوں سے مذاکرات کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن مشتعل کارکنوں کی وجہ سے حالات کنٹرول سے باہر ہو گئے ۔ڈی سی او نے بیارن ریکارڈ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی تحریک کے مشتعل کارکنوں کیوجہ سے امن وامان کی صورت حال بگڑی ۔مشتعل کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کو مغوی بنالیا اور تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع ہی نہیں ہوا کیونکہ انتظامیہ کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈی سی او کے مطابق 38زخمی پولیس اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کیا گیا اور طبی امداد فراہم کرنے والے ریسکیو کا ایک اہلکار بھی عوامی تحریک کے کارکنوں کے حملے میں زخمی ہوا۔مشتعل کارکنوں نے زخمی اہلکاروں کو طبی امداد دینے والے کیمپ کو بھی آگ لگادی ۔ڈی سی او لاہور نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے مزید کہا کہ انتظامیہ ایک قانونی کام کرنے گئی تھی لیکن اسے ایک غیر قانونی رویہ کا سامنا کرنا پڑ ا اور ایس پی اور اے سی ماڈل ٹاﺅن جب کارکنوں سے بات کررہے تھے تو اس دوران مشتعل افراد نے پولیس پر پتھراﺅشروع کردیا۔ آئندہ سماعت عوامی تحریک کے وکلاءڈی سی او لاہور کے بیان پر جرح کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…