واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی کانگریس کے سینئر ارکان نے پاکستان کو ایف 16 طیارے فروخت کرنے مخالفت تیزکر دی ہے۔جمعرات کو امریکی ارکان کانگریس اور ارکان سینیٹ کی جانب سے اس ضمن میں دو مختلف قرار د ادیں پیش کی گئیں۔ دونوں میں طیارے فروخت کرنے کے مجوزہ معاہدے کی مخالفت کی گئی۔ ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے سینیٹ میں ایک مشترکہ قرارداد جمع کرائی جس میں اس معاہدے کی مخالفت کی گئی تھی۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات مشکلات کا شکار رہے ہیں،جنگ رپورٹر واجد علی سید کے مطابق حکومتِ پاکستان کو امریکا کا اتحادی سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے رویے سے ایسا نہیں لگتا۔ جس وقت ہم انہیں اربوں ڈالرز کی امداد دے رہے ہیں اس وقت ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ افغان طالبان کو پاکستانی انٹیلی جنس اور فوج سے مدد ملتی ہے۔ تاہم، یہ قرارداد کانگریس کمیٹی کو بھجوائی گئی ہے جو اس کا جائزہ لینے کے بعد ایوان یا پھر سینیٹ کو بھجوانے کا فیصلہ کرے گی۔ اسی طرح یورپ، یورو ایشیا اور ابھرتے ہوئے خطرات کیلئے قائم ایوان کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے سربراہ اور رکن کانگرنس ڈینا روہرا بیکر نے بھی مشترکہ قرارداد پیش کی۔ روہرا بیکر دو معاملات سامنے لائے، ان میں ایک بلوچستان جبکہ دوسرا ڈاکٹر شکیل آفریدی کے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان امریکا سے ہتھیار لے کر اپنے ہی شہریوں بالخصوص بلوچستان کے عوام کو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گرفتار کیا اور انہیں جیل میں قید رکھا ہوا ہے، یہ گرفتاری امریکا کی جانب دشمنی پر مبنی رویے کا اظہار ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ امریکا پاکستان کو فوجی ساز و سامان نہ دے۔ اسی دوران خارجہ امور کمیٹی کے با اثر رکن کانگریس ایلیٹ اینجل نے وزیر خارجہ جان کیری سے پاکستان کو طیارے فروخت کرنے کے اس معاہدے پر سوالات کیے ہیں۔ سینیٹر جان کیری کمیٹی میں سالانہ بجٹ تجاویز کے حوالے سے بیان دے رہے تھے۔ ایلیٹ اینجل نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ پاکستان دہرا کھیل کھیل رہا ہے کیونکہ اپنے ملک میں وہ دہشت گردی کیخلاف کارروائی کر رہا ہے جبکہ بھارت اور افغانستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے کیونکہ اس کی نظر میں یہ پاکستان کے قومی مفادات کا حصہ ہے۔ پاکستان کے سفارت خانے کی جانب سے اس صورتحال پرفوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ معاہدہ پرسکون انداز سے طے پا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے طیاروں کی فروخت کی وجوہات بیان کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے حوالے سے عوامی سطح پر جاری کیے گئے بیان میں پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی تکمیل سے باہمی تعاون کے متفقہ ڈھانچے کے تحت پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
پاکستان کو طیاروں کی فروخت، سینئر امریکی ارکان کانگریس کی مخالفت میں اضافہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان
-
میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلہ پالیسی جاری، فیس کا بھی اعلان
-
مکہ کی مسجد کے اندر غیر اخلاقی حرکت کرنے پرایک بنگلادیشی مرد اور ایک خاتون کو سزائے موت
-
پہلے سے جاری شدہ لائسنس ہولڈرز بارےاہم اعلان
-
اقرار الحسن کو بڑا عدالتی جھٹکا
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کےلیے خوشخبری، ایک ساتھ تین چھٹیاں
-
پاکستانی ای پاسپورٹ کی نئی فیسوں کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
’’شیطان مر گیا‘‘: نانا پاٹیکر کے بیٹے کا تنوشری دتہ کے متنازع بیان پر ردعمل آگیا
-
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق درخواست نمٹا دی
-
بالی ووڈ ادکارعامرخان کے بھانجے عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری
-
پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا۔۔ نئی قیمتوں کا اعلان
-
حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ سے زیادتی بھی کی گئی، ملازم سے ڈی این اے میچ کرگیا
-
ہائوسنگ سوسائٹیوں کے قوانین میں بڑی ترامیم منظور
-
مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھانے والی اہم وجہ دریافت



















































