اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کامرس نے سیب کی درآمد پر 35فیصد یکساں ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کر دی ایران سے آنے والے پھلوں اور سبزیوں درآمد کیلئے سرٹیفیکیٹ کا حصول بھی لازمی بنایا جائے کمیٹی کا وزارت داخلہ کو پاکستان ایران اور افغانستان کے بارڈر پر سمگلنگ کی روک تھام روکنے کیلئے اقدامات کرنے اور متعقلہ اداروں کو متحرک کرنے کے حوالے سے خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین کمیٹی سینیٹرسید شبلی فراز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی کے سینیٹ سے بھیجے گیا معاملہ جو ایران سے مختلف سبزیاں اور فروٹ کی درآمد سے مقامی کسانوں اورزمینداروں پر ہونے والے منفی اثرات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔سینیٹرمیر کبیر احمد محمد شاہی نے کہا کہ یہ مسئلہ پہلے بھی اٹھایاگیاہے ۔یہ بلوچستان کے زمینداروں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے وہاں کی عوام پچھلے دس سال سے اس وجہ سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔بلوچستان میں پانی کی زیر زمین سطح بہت نیچے گر گئی ہے بجلی نہیں ہے کھاد مہنگی ہے ڈیزل و دیگر اخراجات ذیادہ ہونے کی وجہ سے لاگت پیدائش ذیادہ ہے جبکہ ایرانی حکومت نے اپنے کسانوں اور زمیند اروں کو بہت سی سہولیات فراہم کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے ان کی لاگت پیدائش بہت سستی ہے۔سینیٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا گیا تھا اور چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے مسئلے کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے اسے سینیٹ کی دو قائمہ کمیٹیوں کو جائزہ لینے کیلئے بھیجا ہے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے زمینداروں کے وفدنے بھی مسائل بارے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے زمیندار مشکلات کا شکار ہیں۔حکومت پاکستان ان کی مدد کرنے کی بجائے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھا رہی ہے ملک کے کسان و زمیندار تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ملک کے شہروں میں ایرانی سیب کی بھرمار ہے اور پچھلے سال کی نسبت اس سال ذیادہ سیب درآمد کیا گیا ہے۔بلوچستان میں45لکھ درخت خشک ہو چکے ہیں۔ترکمانستان کا مال بھی پاکستان میں ہمسایہ ممالک کے راستے سے داخل ہو رہا ہے۔یہ ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے۔ایران نے ہمارے کینو اور چاول کی برآمد پر بین لگارکھا ہے۔جس پر سیکرٹری کامرس نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ حکومت اس مسئلے کی طرف خصوصی توجہ دے رہی ہے وفاقی وزیر او ر متعلقہ اداروں کے ساتھ اس حوالے سے بات کی گئی ہے۔اسمگلنگ کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رے ہیں۔انسپکٹر کی ڈیوٹی اب بارڈر پر بھی لگا دی گئی ہے اور درآمد پر 35فیصد ڈیوٹی لگائی گئی ہے جس پر رکن کمیٹی سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ افغانستان سے اسمگلنگ بہت ذیادہ ہو رہی ہے جب تک اس کو نہیں روکا جائے گا معاملات میں بہتری نہیں آٗئیگی۔ کسٹم حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ افغانستان کے ذریعے جو چیزیں درآمد کی جاتی ہیں وہ قانون کے تحت آرہی ہیں اور اسمگلنگ کو اکیلا کسٹم نہیں روک سکتا اتنا عملہ نہیں کہ پورے بارڈر کو کنٹرول کیا جا سکے۔اور ایران کی طرف سے بارڈر کے پاس سڑکیں ہیں مگر ہماری طرف سے کوئی سٹرکچر نہیں ہے۔سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ تورخم او رکراچی پر ڈیوٹی میں ا ضافہ کیا جائے اور سیب ،کھجور ،ٹماٹر،انگوراور پیاز کی غیر قانونی درآمد کو روکا جائے۔جس پر قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ وزارت داخلہ کو سمگلنگ کی روک تھام روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے اور متعقلہ اداروں کو متحرک کرنے کے حوالے سے لکھا جائے۔اور سیب کی درآمد پر یکساں ڈیوٹی 35فیصدعائد کی جائے۔اورفروٹس اور سبزیوں درآمد کیلئے سرٹیفیکیٹ کا حصول بھی لازمی بنایا جائے۔سینیٹر میر کبیر احمد نے کہا کہ ہمارے صوبے کا نہایت اہم مسلہ ہے وفاقی وزیر برائے کامرس اور نیشنل فوڈ سیکورٹی کے حکام کو اجلاس میں شرکت کرنی چایئے تھی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سلیم ایچ مانڈوی والا نے کہا کہ پیپر پرنٹنگ کے ایک وفد نے آج کی سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ میں پیش کیا ہے اور یہ اس کمیٹی سے متعلق ہے تو ان کے وفد سے مسائل بارے آگاہی حاصل کی جائے۔قائمہ کمیٹی کو وفد کے حکام نے بتایا کہ پاکستان میں کتابوں کی درآمد پر کوئی ڈیوٹی نہیں ہے جبکہ پیپرز کی درآمد پر ڈیوٹی ہے جس کی وجہ سے پرنٹنگ کی صنعت تباہی کا شکار ہو رہی ہے۔لوگ بیرون ممالک سے کتب پرنٹ کروا کر پاکستان میں درآمد کر رہے ہیں۔حکومت کو مقامی صنعت کو فروغ دینا چاہئے ۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری کامرس کی سربراہی میں ایف بی آر اور صنعت کے لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے کو رپورٹ جمع کرانے کی سفارش کر دی۔قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز مفتی عبد الستار،حاصل خان بزنجو،محمد عثمان خان کاکڑ،سلیم مانڈوی والا،روبینہ خالد،حاجی سیف اللہ خان بنگش،میر کبیر احمد محمد شاہی،کے علاوہ سیکرٹری کامرس محمد شہزاد ارباب ،کسٹم حکام اور بلوچستان کے زمینداروں کے وفد کے علاوہ دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔
سیب کی درآمد پر 35فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
طالبعلم نے گھر میں دادا دادی کو ہلاک کیا پھر سکول جاکر 5ٹیچرز کو مارا، ہوشربا تفصیلات
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ
-
بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں اہم پیشرفت، ہنی ٹریپ کرنیوالی ٹک ٹاکر گرفتار
-
پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت پر اسٹیٹ بینک نے نئی شرط عائد کردی
-
پاکستان، ترکیہ کے ساتھ ‘کاغذی معاہدہ’ سعودیہ کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا، ایران
-
مارکیٹ سےاکٹھےکیے گئے گھی کے تقریباً 48 فیصدنمونے کوالٹی ٹیسٹ میں ناکام
-
100 سے 40 ہزار روپے تک کے پرائز بانڈز، انعامی رقم پر ٹیکس کتنا ہوگا؟



















































