کراچی (نیوز ڈیسک)سابق وزرااورافسران مالی بحران کا شکار بلدیہ عظمی کراچی کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ لاکھوں روپے کا فیول بھی لوٹا جانے لگا۔ ذرائع کے مطابق بلدیہ عظمی کراچی شہریوں کے مسائل حل کرنے سے زیادہ وزرااور اپنے افسران کی خواہشات پوری کرنے مصروف ہے۔ کسی نے وزیر بن کر تو کوئی اعلی افسر بن کر اس ادارے کو لوٹتا رہا۔موجودہ اسپیکر آغا سراج درانی جب وزیر بلدیات بنے تو گاڑیوں کی لمبی لائن کے ساتھ دو قیمتی گاڑیوں کی بھی فرمائش کر بیٹھے جو تاحال ان کے استعمال میں ہیں۔ نیب کی تحقیقات کا سامنا کرنے والے شرجیل میمن ایک کروڑ مالیت کی گاڑی قبضے میں کیے بیٹھے ہیں تو سابق ایڈمنسٹریٹر ثاقب سومرو دو ہاتھ آگے نکلے۔تین لگژری گاڑیاں بلدیہ عظمی کی لے اڑے جبکہ سابق ایڈمنسٹریٹر لالہ فضل الرحمان کے پاس ایک گاڑی سابق کمشنر کراچی شعیب صدیقی کے پاس دو گاڑیاں کے ایم سی کے سابق افسر جاوید حنیف کے پاس ایک گاڑی کورنگی کے ایڈمنسٹریٹر غلام رسول کے پاس ایک گاڑی غربی کے میونسپل کمشنر اشفاق ملاح کے پاس ایک گاڑی اس کے علاوہ درجنوں سابق افسران کے پاس گاڑیاں ہیں ۔ذرائع کے مطابق گاڑیوں کو قبضے میں رکھنے والے کئی افسران کے ایم سی سے لاکھوں روپے کا فیول بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔
بلدیہ عظمی کراچی کی قیمتی گاڑیاں کس نے غائب کیں ؟ بڑے نام سامنے آ گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم(چوتھا حصہ)
-
تعلیمی اداروں میں جمعہ کی چھٹی، طلبا کے لئے اہم خبر
-
سسٹم لگوانے والے تمام صارفین کیلئے نئی شرط عائد
-
جون اور جولائی کے فیس واؤچرز! نجی اسکولوں کے لیے نیا حکم نامہ جاری
-
پرانی امپورٹڈ گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کے لئے بڑی خوشخبری آگئی
-
ٹرمپ نے ایران سے جن 8 خواتین کو پھانسی نہ دینے کا مطالبہ کیا وہ کون ہیں اور ان پر کیا الزامات ہیں؟
-
پنجاب حکومت کا ملازمین کی تنخواہ سے متعلق بڑا فیصلہ
-
عمران خان 3 پارٹی رہنماؤں سے سخت ناراض
-
سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بھی بڑی کمی
-
قومی کرکٹر محمد نواز ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر بڑی مشکل میں پھنس گئے
-
سگے خالو کی 10 سالہ بچی سے زیادتی
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
راولپنڈی میں ٹریفک جام کے باعث بس سے اتر کر نجی ہوٹل کے کمرے میں قیام کرنے والی ہوسٹس زیادتی کا نشا...
-
خاتون نے محبوب کو باندھ کر زندہ جلا دیا



















































