منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ میں مسلسل رونے پر اپنے ہی بچوں کے ساتھ کیا وہ جو کوئی سوچے بھی نہ

datetime 28  جنوری‬‮  2015 |

واشنگٹن:  مغربی معاشروں میں رفتہ رفتہ وقت کی جدت جہاں انسانی رشتوں کی اہمیت کو ختم کرتی جارہی ہے وہیں ماں جیسی ہستی کی محبت پر بھی ذاتی آرام و سکون حاوی آتا جا رہا ہے اور ایسا ہی ایک ہولناک واقعہ پیش آیا امریکا میں جہاں سنگدل ماں نے اپنا مامتا کو روندتے ہوئے مسلسل رونے پر شیر خوار بچوں کا گلا کاٹ دیا لیکن خوش قسمتی سے ان معصوموں کی زندگی بچ گئی۔

امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن کی رہائشی خاتون نے مسلسل رونے پر اپنے 3 بچوں کے گلے تیز دھار آلے سے کاٹنے کے بعد پولیس کو اطلاع دی کہ اس کے بچے بہت روہے ہیں اور انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے جس پر پولیس جب میڈیکل ٹیم کے ہمراہ وہاں پہنچی تو گھر کا منظر دل دہلا دینے والا تھا جہاں کمرے میں دو 6 ماہ کے جڑواں بچے خون میں لت پت تڑپ رہے تھے یہ منظر دیکھ کر جب پولیس افسر گھر کی تلاشی لینے اوپر کی جانب بڑھا تو وہاں 2 سالہ تیسرا  بچہ بھی بیڈ پر خون میں تر تڑپ رہا تھا،  پولیس نے بچوں کی حالت دیکھ کر انہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا جہاں ڈاکٹرز کی جانب سے انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔

دوسری جانب بچوں کا گلہ کاٹنے والے سنگ دل ماں نے پولیس کو بتایا کہ تینوں بچوں کی دیکھ بھال نے اسے سخت پریشان کردیا تھا اور اس سلسلے میں اس کا شوہر اس کی کوئی مدد بھی نہیں کرتا تھا اسی لیے بچوں کے مسلسل رونے پر وہ طیش میں آگئی اور ان کے گلے تیز دھار آلے سے کاٹنے کی کوشش کی، پولیس نے خاتون پر مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…