بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

پاک افغان انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت پھرشروع ہونے کا امکان

datetime 8  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان اور افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مابین مجوزہ معاہدے پر بات چیت دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔میڈیا رپو رٹ کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اور ان کے افغان ہم منصب مسعود اندرابی کے مابین حالیہ ملاقات میں اس موضوع پر تبادلہ خیال کیاگیا، افغان نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے قائم مقام سربراہ کے اچانک دورہ اسلام آبادکے موقع پرانٹیلی جنس اورسیکیورٹی امور میں تعاون پر بات ہوئی۔ دونوں اداروں کی جانب سے سربراہان کی ملاقات کی تردید کی گئی ہے۔مئی 2015میںآئی ایس آئی اور این ڈی ایس میں عسکریت پسندوں کے آپریشن اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے حوالے سے باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے لیکن افغان سیاستدانوں بشمول سابق افغان صدرکرزئی کی جانب سے شدید مخالفت کے باعث اس یادداشت پر عملدرآمد نہیں ہوسکاتھا، اس دباو¿ کی وجہ سے این ڈی ایس پیچھے ہٹ گئی تھی۔ کسی معاہدے پر پیش رفت نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی اس وقت کے این ڈی ایس چیف رحمت اللہ نبیل ایسے کسی معاہدے کے مخالف تھے۔دسمبر2015میں رحمت اللہ نبیل پاکستان پرصدراشرف غنی کی پالیسیوں پر اختلاف کے باعث مستعفی ہوگئے، غنی حکومت کئی مہینوں کی کشیدگی اوردسمبر میں اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں اشرف غنی کی شرکت سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری آئی، اشرف غنی کے دورہ پاکستان سے افغان طالبان سے افغان حکومت کے مذاکرات، عسکری اور انٹیلی جنس حکام کی ملاقاتوں اور کئی امور میں پیش رفت ہوئی۔اس پیش رفت سے آگاہ ایک ذریعے نے بتایاکہ دونوں پڑوسی ممالک نے اس بات کا ادراک کرلیاہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلیے دونوں ممالک کے سیکیورٹی اداروں کے مابین رابطے اور تعاون ناگزیر ہے۔ دونوں ممالک کے عسکری اور انٹیلی جنس حکام کے حالیہ دورے دوطرفہ تعاون کیلیے اقدام کا حصہ ہیں۔ دونوںپڑوسی ممالک کے آپریشنل کمانڈرز نے بہتر رابطوں کیلیے ایک ہاٹ لائن بھی قائم کی ہے، دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزنے ایک دوسرے ممالک کے دورے بھی کیے ہیں۔ذرائع کا کہناہے کہ یہ اقدام مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز اور سرحد ی امور میں بہتری کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایاکہ دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے مابین اطلاعات کا تبادلہ اور رابطے سرحد کے دونوں جانب مشکلات پیداکرنے والے عسکریت پسندوں سے نمٹنے کیلیے اہم ہے۔ یہی وجوہ ہیں کہ دونوں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مابین کسی معاہدے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مابین اعتمادسازی کے فقدان کے باعث مستقل قریب میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…