اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے مبینہ طور پر کرپٹ سیاست دانوں کے کیسز کے حوالے سے سندھ رینجرز کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ جمعہ کو پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سمیت مسلم لیگ (ن) کے حالیہ اجلاس میں کراچی آپریشن اور رینجرز کے حوالے سے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے تحفظات کا معاملہ کئی بار زیر غور آیا۔حکمراں جماعت کی اندرونی کہانی سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ جن سیاست دانوں کے خلاف دہشت گردوں اور شدت پسندوں سے تعلقات کے پختہ ثبوت ہیں، حکومت ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں نہیں تھی۔تاہم وزیر اعظم رینجرز کی جانب سے محض کرپشن کے الزامات میں سیاست دانوں کی گرفتاری پر نالاں ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقات ادارے (ایف آئی اے) کو اس طرح کے جرائم سے نمٹنے کے پورے اختیارات حاصل ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطے میں ہیں اور انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ رینجرز صرف ان سیاست دانوں کے خلاف کارروائی کرے گی، جن کا دہشت گردوں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق پایا جائے۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، وزیر اعظم نواز شریف نے بھی ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لیے سیاسی مفاہمت کی راہ پر چلنے کا عزم کر رکھا ہے۔تاہم وزیر اعظم ہاؤس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں، اس نے حکمراں جماعت کے سربراہ کے لیے مشکل کردیا ہے کہ وہ وسیع سیاسی اتفاق رائے برقرار رکھ پائیں۔بند کمروں میں ہونے والے اجلاس میں شریف برادران نے، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سے بڑھتے ہوئے تصادم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاملات کو بہتر سطح پر لائیں۔پارٹی آفس بیرر کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کا گزشتہ سال جون سے بیرون ملک قیام، ڈاکٹر عاصم حسین اور پھر اب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اور لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کی گرفتاری نے مسلم لیگ (ن) کی راتوں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے 2008 سے 2013 تک کے دور حکومت میں (ن) لیگ نے کئی نازک مواقع آنے کے باجود حکمراں جماعت سے تعلقات استوار رکھے، جس کے باعث یہ کہا گیا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان غیر تحریری معاہدہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی ٹانگیں نہیں کھینچیں گی۔مسلم لیگ (ن) کے آفس بیرر کا کہنا تھا کہ عذیر بلوچ کی گرفتاری کے بعد، پی پی پی کے کئی اور رہنماؤں کی گرفتاری متوقع ہے، جس سے یقینی طور پر دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کو نقصان پہنچے گا۔ن لیگ کے سابق سینیٹر نے کہا کہ عذیر بلوچ کی باضابطہ گرفتاری کی جو بھی وجہ ہو، اس سے شریف برادران کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان پہلے ہی حکومت کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں، اب پیپلز پارٹی بھی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنائے گی۔کراچی کی سیاست سے وابستہ ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹری نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عذیر بلوچ ایک بڑ? مجرم اور قاتل ہے، لیکن اگر اسے پی پی پی کو دیوار کے پیچھے دھکیلنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ بہت بدقسمتی ہوگی۔
عذیربلوچ کی گرفتاری:ن لیگ،پی پی پی تعلقات خطرناک موڑ پر آ گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو
-
لائبہ اعجاز کیس میں نیا موڑ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کی موجیں، نومبر میں مسلسل 3 چھٹیاں ملنے کا امکان
-
اپنا گھر اسکیم کیلیے دستاویزات کی تعداد 25 سے کم کرکے صرف 5 کردی گئی
-
میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلہ پالیسی جاری، فیس کا بھی اعلان
-
اقرار الحسن کو بڑا عدالتی جھٹکا
-
پہلے سے جاری شدہ لائسنس ہولڈرز بارےاہم اعلان
-
اپنا گھر سکیم، شہریوں کے لیے قرض کا حصول مزید آسان ہوگیا
-
مکہ کی مسجد کے اندر غیر اخلاقی حرکت کرنے پرایک بنگلادیشی مرد اور ایک خاتون کو سزائے موت
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کےلیے خوشخبری، ایک ساتھ تین چھٹیاں
-
منقطع سوئی گیس کنکشنز کی بحالی کیلئے کڑی شرائط عائد
-
حوثی کون ہیں اور سعودی عرب پر حملے کیوں کر رہے ہیں؟
-
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق درخواست نمٹا دی
-
پاکستانی ای پاسپورٹ کی نئی فیسوں کا شیڈول جاری کردیا گیا



















































