جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

عذیربلوچ کی گرفتاری:ن لیگ،پی پی پی تعلقات خطرناک موڑ پر آ گئے

datetime 1  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے مبینہ طور پر کرپٹ سیاست دانوں کے کیسز کے حوالے سے سندھ رینجرز کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ جمعہ کو پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سمیت مسلم لیگ (ن) کے حالیہ اجلاس میں کراچی آپریشن اور رینجرز کے حوالے سے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے تحفظات کا معاملہ کئی بار زیر غور آیا۔حکمراں جماعت کی اندرونی کہانی سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ جن سیاست دانوں کے خلاف دہشت گردوں اور شدت پسندوں سے تعلقات کے پختہ ثبوت ہیں، حکومت ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں نہیں تھی۔تاہم وزیر اعظم رینجرز کی جانب سے محض کرپشن کے الزامات میں سیاست دانوں کی گرفتاری پر نالاں ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقات ادارے (ایف آئی اے) کو اس طرح کے جرائم سے نمٹنے کے پورے اختیارات حاصل ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطے میں ہیں اور انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ رینجرز صرف ان سیاست دانوں کے خلاف کارروائی کرے گی، جن کا دہشت گردوں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق پایا جائے۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، وزیر اعظم نواز شریف نے بھی ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لیے سیاسی مفاہمت کی راہ پر چلنے کا عزم کر رکھا ہے۔تاہم وزیر اعظم ہاؤس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں، اس نے حکمراں جماعت کے سربراہ کے لیے مشکل کردیا ہے کہ وہ وسیع سیاسی اتفاق رائے برقرار رکھ پائیں۔بند کمروں میں ہونے والے اجلاس میں شریف برادران نے، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سے بڑھتے ہوئے تصادم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاملات کو بہتر سطح پر لائیں۔پارٹی آفس بیرر کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کا گزشتہ سال جون سے بیرون ملک قیام، ڈاکٹر عاصم حسین اور پھر اب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اور لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کی گرفتاری نے مسلم لیگ (ن) کی راتوں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے 2008 سے 2013 تک کے دور حکومت میں (ن) لیگ نے کئی نازک مواقع آنے کے باجود حکمراں جماعت سے تعلقات استوار رکھے، جس کے باعث یہ کہا گیا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان غیر تحریری معاہدہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی ٹانگیں نہیں کھینچیں گی۔مسلم لیگ (ن) کے آفس بیرر کا کہنا تھا کہ عذیر بلوچ کی گرفتاری کے بعد، پی پی پی کے کئی اور رہنماؤں کی گرفتاری متوقع ہے، جس سے یقینی طور پر دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کو نقصان پہنچے گا۔ن لیگ کے سابق سینیٹر نے کہا کہ عذیر بلوچ کی باضابطہ گرفتاری کی جو بھی وجہ ہو، اس سے شریف برادران کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان پہلے ہی حکومت کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں، اب پیپلز پارٹی بھی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنائے گی۔کراچی کی سیاست سے وابستہ ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹری نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عذیر بلوچ ایک بڑ? مجرم اور قاتل ہے، لیکن اگر اسے پی پی پی کو دیوار کے پیچھے دھکیلنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ بہت بدقسمتی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…