ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

عذیربلوچ کی گرفتاری:ن لیگ،پی پی پی تعلقات خطرناک موڑ پر آ گئے

datetime 1  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے مبینہ طور پر کرپٹ سیاست دانوں کے کیسز کے حوالے سے سندھ رینجرز کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ جمعہ کو پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سمیت مسلم لیگ (ن) کے حالیہ اجلاس میں کراچی آپریشن اور رینجرز کے حوالے سے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے تحفظات کا معاملہ کئی بار زیر غور آیا۔حکمراں جماعت کی اندرونی کہانی سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ جن سیاست دانوں کے خلاف دہشت گردوں اور شدت پسندوں سے تعلقات کے پختہ ثبوت ہیں، حکومت ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں نہیں تھی۔تاہم وزیر اعظم رینجرز کی جانب سے محض کرپشن کے الزامات میں سیاست دانوں کی گرفتاری پر نالاں ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقات ادارے (ایف آئی اے) کو اس طرح کے جرائم سے نمٹنے کے پورے اختیارات حاصل ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطے میں ہیں اور انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ رینجرز صرف ان سیاست دانوں کے خلاف کارروائی کرے گی، جن کا دہشت گردوں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق پایا جائے۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، وزیر اعظم نواز شریف نے بھی ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لیے سیاسی مفاہمت کی راہ پر چلنے کا عزم کر رکھا ہے۔تاہم وزیر اعظم ہاؤس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں، اس نے حکمراں جماعت کے سربراہ کے لیے مشکل کردیا ہے کہ وہ وسیع سیاسی اتفاق رائے برقرار رکھ پائیں۔بند کمروں میں ہونے والے اجلاس میں شریف برادران نے، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سے بڑھتے ہوئے تصادم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاملات کو بہتر سطح پر لائیں۔پارٹی آفس بیرر کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کا گزشتہ سال جون سے بیرون ملک قیام، ڈاکٹر عاصم حسین اور پھر اب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اور لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کی گرفتاری نے مسلم لیگ (ن) کی راتوں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے 2008 سے 2013 تک کے دور حکومت میں (ن) لیگ نے کئی نازک مواقع آنے کے باجود حکمراں جماعت سے تعلقات استوار رکھے، جس کے باعث یہ کہا گیا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان غیر تحریری معاہدہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی ٹانگیں نہیں کھینچیں گی۔مسلم لیگ (ن) کے آفس بیرر کا کہنا تھا کہ عذیر بلوچ کی گرفتاری کے بعد، پی پی پی کے کئی اور رہنماؤں کی گرفتاری متوقع ہے، جس سے یقینی طور پر دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کو نقصان پہنچے گا۔ن لیگ کے سابق سینیٹر نے کہا کہ عذیر بلوچ کی باضابطہ گرفتاری کی جو بھی وجہ ہو، اس سے شریف برادران کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان پہلے ہی حکومت کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں، اب پیپلز پارٹی بھی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنائے گی۔کراچی کی سیاست سے وابستہ ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹری نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عذیر بلوچ ایک بڑ? مجرم اور قاتل ہے، لیکن اگر اسے پی پی پی کو دیوار کے پیچھے دھکیلنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ بہت بدقسمتی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…