اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں جب سے زلزلوں کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہوا ہے آئے روز نئی نئی پیش گوئیاں سننے کو اور دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں ، ایسی ہی ایک خبر کے مطابق ماہرین نے ’’قیامت کی گھڑی‘‘ (Doomsday Clock) کے نام سے ایک علامتی الٹی گنتی کا نظام وضع کر رکھا ہے جو دنیا کی تباہی کے وقت کا تعین کرتا ہے۔ یعنی یہ گھڑی اس دنیا کے آخری دن کی طرف الٹی چل رہی ہے اور بتاتی جا رہی ہے کہ اب آخری وقت کتنا دور ہے۔ دنیا میں روپذیر ہونے والے حالات و اقعات اور مختلف ممالک کی آپس میں جنگوں کے نتیجے میں اس کا وقت بھی مختلف ہو جاتا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں اس گھڑی کے مطابق دنیا کی تباہی محض 5منٹ مڈنائٹ(Midnight) کی دوری پر تھی لیکن آج صورتحال اس سے بھی سنگین ہو چکی ہے اور یہ گھڑی بتا رہی ہے کہ دنیا کی تباہی محض 3منٹ کے فاصلے پر ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کی وجہ ایٹمی حملوں کا خدشہ، موسمیاتی تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی ہے۔ ان تینوں عوامل سے دنیا کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ گزشتہ دنوں ایران اور مغربی دنیا کے مابین ہونے والے ایٹمی پروگرام کے تصفیے اور پیرس میں موسمیاتی تبدیلی کی کانفرنس میں اس خطرے سے نمٹے کے معاہدوں سے اس گھڑی پر معمولی فرق پڑا ہے، کیونکہ شام میں جاری جنگ و جدل، یوکرین میں ٹکرا? کی صورتحال اور امریکہ اور روس کے تعلقات میں کشیدگی دنیا کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ 2015ء4 میں تین سال بعد اس گھڑی نے حرکت کی تھی اور 11بج کر 55منٹ سے 11بج کر 57منٹ پر چلی گئی، یعنی خطرے کے مزید 2منٹ قریب ہوگئی تھی۔ ایران کے ایٹمی معاہدے اور پیرس کانفرنس کے باعث اسے خطرے سے دور جانا چاہیے تھا لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس وقت روس اور امریکہ کے تعلقات اس قدر کشیدہ ہیں کہ سرد جنگ کے زمانے کی یاد دلا رہے ہیں اور دونوں طرف سے چھوٹے ایٹمی ہتھیار استعمال کیے جانے کا بھی خدشہ ہے جس کی وجہ سے اس کلاک پر اوپر بیان کیے گئے دونوں اچھے اقدامات کا کوئی اثرنہیں پڑا۔
ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا میں 15ہزار 800ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جن میں سے 14ہزار 700امریکہ اور روس کے پاس ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کی طرف سے گزشتہ دنوں کیے جانے والے ہائیڈروجن بم کے تجربات پر بھی ماہرین پریشان ہیں۔ گزشتہ سال کی آئی پی سی سی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 40سالوں سے فصلوں کی پیداوار میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے اور کئی تازہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ آئندہ 50سالوں میں کئی فصلوں ، خاص طور پر گندم اور مکئی کی پیداوارخطرناک حد تک کم ہو جائے گی جس سے دنیاشدید غذائی قلت کا شکار ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں ملکوں کی لڑائیاں شدید ہو جائیں گی، پناہ گزینوں کا مسئلہ بڑھ جائے گا اور دنیا تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائی قلت کے خدشے کے ساتھ ساتھ دنیا میں امیر اور غریب کے درمیان فرق بہت زیادہ بڑھتا جا رہا ہے۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے غریب طبقہ مزید متاثر ہو گا جس سے یہ فرق اور زیادہ بڑھ جائے گا اور انجام کار لوگ امیر اور غریب ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں اب سب سے زیادہ جنگیں توانائی، پانی، خوراک اور خطوں کے موسم کی وجہ سے ہوں گی اور یہی دنیا کی تباہی کا باعث بنیں گی۔بحر حال حقیقت چاہے جو بھی ہو مگر حالات بتاتے ہیں کہ ایسا جلد اور لازماََ ہوگا ۔
دنیا کب ختم ہو گی ؟، وقت اتنا قریب کے جان کر پیروں تلے زمین نکل جائے گی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































