جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

آئی ایم ایف کا پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے سے انکار

datetime 27  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آئی ایم ایف نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت پچاس کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ گیارہ اداروں کی نجکاری ، سالانہ بجٹ خسارہ میں کمی اور پاکستان کی ترقیاتی فنڈز میں ستائیس فیصد کمی کرنے سے مشروط کردی ۔ پاکستانی مذاکراتی وفد کے تمام تر کاوشیں ناکام ہوگئی ہیں اور آئی ایم ایف وفد نے پاکستانی وفد کو پچاس کروڑڈالر کی قسط جاری کرنے سے صاف انکار کردیا ہے ۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، چیئرمین ایف بی آر نثار احمد اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد زبیر آئی ایم ایف کو قائل کرنے کیلئے ہنگامی طور پر دبئی روانہ ہوگئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف وفود کے مابین پچاس کروڑ ڈالر کی قسط کیلئے دسویں جائزہ اجلاس چھبیس جنوری کو دبئی میں ہوئے جس میں آئی ایم ایف نے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی پر پاکستان کو ایکٹینڈڈ فنڈز فیسلٹی پروگرام کے تحت جاری ہونے والی قسط روک دی ہے اور پاکستانی مذاکراتی ٹیم نے اعلیٰ حکام کو آگاہ کردیا ہے جس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، چیئرمین ایف بی آر نثار محمد چیئرمین نجکاری کمیشن محمد زبیر ہنگامی طور پر دبئی پہنچ گئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی مذاکراتی وفد چوبیس جنوری کو آئی ایم ایف مذاکرات کیلئے دبئی پہنچے تھے جس میں رجمان ایف بی آر ڈاکٹر محمد اقبال اور سیکرٹری ایف بی آر طارق جمیل کے علاوہ سیکرٹری خزانہ وقار مسعود اور وزارت خزانہ کے دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں آئی ایم ایف نے گیارہ اداروں کی نجکاری ، سالانہ بجٹ خسارہ میں مزید کمی اور پاکستان کی ترقیاتی فنڈ میں ستائیس فیصد کم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے اور ترجیحی بنیادوں پر اہداف حاصل کرنے کے بعد پچاس کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے سے مشروط کردیا ہے اس حوالے سے مذاکراتی ٹیم نے پاکستانی اعلیٰ حکام کو آگاہ کردیا ہے جس کی وجہ سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، چیئرمین ایف بی آر نثار محمد خان اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد زبیر ہنگامی طور پر دبئی روانہ ہوگئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کیلئے دوسرا اعلیٰ سطح کا وفد دبئی گیا ہے اور آئی ایم ایف کو پچاس کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے پر آمادہ کیا جائے گا یاد رہے کہ سالانہ بجٹ خسارہ پاکستان کی جی ڈی پی کا آٹھ فیصد سے کم کرکے 4.3فیصد کرنے کا ہدف آئی ایم ایف دے چکا ہے جبکہ حکومت سالانہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5.8فیصد تک کم کرنے میںکامیاب ہوسکا ہے تاہم ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہوا ہے اس طرح تیس اداروں کی نجکاری لسٹ میں سے گیارہ سرکاری ادارے جون دو ہزار سولہ سے پہلے نجکاری کرنے کا معاہدہ ہے جس پر عملدرآمد نہ ہونے پر آئی ایم ایف نے اپنے تحفظات کا اظہار کردیا ہے ان گیارہ اداروں میں پی آئی اے اور سٹیل ملز سرفہرست ہے پاکستان کی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی سالانہ بجٹ کو ستائیس فیصد کم کرنے کا بھی آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا تھا ۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…