ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

انوکھا گاوں ، جہاں بچہ دنیا میں’ اکیلا‘ نہیں آتا

datetime 7  جولائی  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)براعظم افریقہ کے قدیم ترین گاوں میں سے ایک گاوں ایسا بھی ہے جہاں کثیر تعداد میں جڑواں بچے جنم لیتے ہیں۔ بعض گھرانے ایسے بھی ہیں جن کے تقریباً تمام افراد جڑواں ہیں۔ان کے چہروں اور خدو خال میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے اس حد تک کہ دور دراز سے آنے والے افراد خود کو” کلوننگ“ کے موضوع پر بننے والی کسی فلم کے سیٹ پر کھڑامحسوس کرتے ہیں۔ ” ایگیواوبرا “ نامی گاوں ، براعظم افریقہ میںنائیجریا کے جنوب مغرب میںواقع ہے۔یہ دنیا کا واحد گاوں ہے جس کے قیام کے بعد سے ، اس میں جڑواں بچوں کی پیدائش کا تناسب دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے جبکہ اس کا شمار براعظم افریقہ کے قدیم ترین گاوں میں ہوتا ہے۔یہاں سالانہ گیارہ فیصد سے بھی زیادہ جڑواںبچے دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ اس گاوں میں ایسے بے شمار گھرانے ہیں جہاں تواتر کے ساتھ اٹھ یا اس سے زائد مرتبہ جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے جسے ماہرین نے انتہائی انوکھاقرار دیا ہے۔ یہاں رہنے والے افراد کی شکلوں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے اور ان کو علیحدہ سے شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے۔گاوں کی ایک خاتون کے مطابق،وہ اکثر و بیشتر اپنے خاوند اور اس کے بھائی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرپاتی، دونوں ایک ہی وقت کی پیدائش ہیں۔زیادہ تر اسکولوں میں ایک ہی جماعت میں بڑی تعداد میں جڑواں بچے موجود ہوتے ہیں اور اساتذہ کے لیے ان سے سوالات کرنا بذات خودایک امتحان ہوتا ہے۔اس گاوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو” آئیڈنٹی کل ٹوئن“ کہا جاتا ہے، جب کہ ایگیو اوبرا گاوںکو گلوبل ریفوج فار ٹوئنزیعنی ”دنیا بھر کے جڑواں افراد کی پناہ گاہ “ کا خطاب دیا گیا ہے۔ایک ہی وقت میں ایک سے زائد بچوں کی پیدائش کے معاملے میں ڈی این اے کے ماہرین بھی دلچسپی لے رہے ہیںاور اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ اس گاوں میں ایسی کون سی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے یہاں اتنی کثیر تعداد میں جڑواں بچے جنم لیتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جوڑے کے یہاں دو مرتبہ تو جڑواں بچے پیدا ہوسکتے ہیں لیکن تیسری مرتبہ اس کا امکان شاذونادر ہی ہوتا ہے جبکہ چوتھی اور پانچویں بار یہ قطعی ناممکنات میں سے ہے۔نائیجریاپر غیرملکی استعمار سے قبل اس مملکت کے جنگلات میں پھیلے ہوئے گاوں اور قصبات وحشیانہ رسومات کے پابند تھے۔اس دور میں جڑواں بچوں کی پیدائش کو نحوست اور قدرت کے قہر و غضب کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ خونخوار قبائلیوں کے مسلح دستے ایسے گھرانوں کی تلاش میں رہتے تھے جہاں انہیں کسی گھر میں جڑواں بچوں کی پیدائش کی سن گن ملتی، وہ بچوں اوران کی ماوں کو پکڑ کر سردار کے سامنے پیش کرتے جس کے حکم پر انہیں قربان گاہ کی بھینٹ چڑھا دیا جاتاتھا۔سن 1960میں آزادی کے بعدنائیجریا کی حکومت کی طرف سے اس کے تدارک کے لیے بھرپور اقدامات کیے گئے جس کے بعد اس فرسودہ قبائلی رسم کا خاتمہ ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…