کراچی(نیوز ڈیسک)براعظم افریقہ کے قدیم ترین گاوں میں سے ایک گاوں ایسا بھی ہے جہاں کثیر تعداد میں جڑواں بچے جنم لیتے ہیں۔ بعض گھرانے ایسے بھی ہیں جن کے تقریباً تمام افراد جڑواں ہیں۔ان کے چہروں اور خدو خال میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے اس حد تک کہ دور دراز سے آنے والے افراد خود کو” کلوننگ“ کے موضوع پر بننے والی کسی فلم کے سیٹ پر کھڑامحسوس کرتے ہیں۔ ” ایگیواوبرا “ نامی گاوں ، براعظم افریقہ میںنائیجریا کے جنوب مغرب میںواقع ہے۔یہ دنیا کا واحد گاوں ہے جس کے قیام کے بعد سے ، اس میں جڑواں بچوں کی پیدائش کا تناسب دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے جبکہ اس کا شمار براعظم افریقہ کے قدیم ترین گاوں میں ہوتا ہے۔یہاں سالانہ گیارہ فیصد سے بھی زیادہ جڑواںبچے دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ اس گاوں میں ایسے بے شمار گھرانے ہیں جہاں تواتر کے ساتھ اٹھ یا اس سے زائد مرتبہ جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے جسے ماہرین نے انتہائی انوکھاقرار دیا ہے۔ یہاں رہنے والے افراد کی شکلوں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے اور ان کو علیحدہ سے شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے۔گاوں کی ایک خاتون کے مطابق،وہ اکثر و بیشتر اپنے خاوند اور اس کے بھائی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرپاتی، دونوں ایک ہی وقت کی پیدائش ہیں۔زیادہ تر اسکولوں میں ایک ہی جماعت میں بڑی تعداد میں جڑواں بچے موجود ہوتے ہیں اور اساتذہ کے لیے ان سے سوالات کرنا بذات خودایک امتحان ہوتا ہے۔اس گاوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو” آئیڈنٹی کل ٹوئن“ کہا جاتا ہے، جب کہ ایگیو اوبرا گاوںکو گلوبل ریفوج فار ٹوئنزیعنی ”دنیا بھر کے جڑواں افراد کی پناہ گاہ “ کا خطاب دیا گیا ہے۔ایک ہی وقت میں ایک سے زائد بچوں کی پیدائش کے معاملے میں ڈی این اے کے ماہرین بھی دلچسپی لے رہے ہیںاور اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ اس گاوں میں ایسی کون سی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے یہاں اتنی کثیر تعداد میں جڑواں بچے جنم لیتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جوڑے کے یہاں دو مرتبہ تو جڑواں بچے پیدا ہوسکتے ہیں لیکن تیسری مرتبہ اس کا امکان شاذونادر ہی ہوتا ہے جبکہ چوتھی اور پانچویں بار یہ قطعی ناممکنات میں سے ہے۔نائیجریاپر غیرملکی استعمار سے قبل اس مملکت کے جنگلات میں پھیلے ہوئے گاوں اور قصبات وحشیانہ رسومات کے پابند تھے۔اس دور میں جڑواں بچوں کی پیدائش کو نحوست اور قدرت کے قہر و غضب کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ خونخوار قبائلیوں کے مسلح دستے ایسے گھرانوں کی تلاش میں رہتے تھے جہاں انہیں کسی گھر میں جڑواں بچوں کی پیدائش کی سن گن ملتی، وہ بچوں اوران کی ماوں کو پکڑ کر سردار کے سامنے پیش کرتے جس کے حکم پر انہیں قربان گاہ کی بھینٹ چڑھا دیا جاتاتھا۔سن 1960میں آزادی کے بعدنائیجریا کی حکومت کی طرف سے اس کے تدارک کے لیے بھرپور اقدامات کیے گئے جس کے بعد اس فرسودہ قبائلی رسم کا خاتمہ ہوا۔
انوکھا گاوں ، جہاں بچہ دنیا میں’ اکیلا‘ نہیں آتا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































