منگل‬‮ ، 14 جولائی‬‮ 2026 

انوکھا گاوں ، جہاں بچہ دنیا میں’ اکیلا‘ نہیں آتا

datetime 7  جولائی  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)براعظم افریقہ کے قدیم ترین گاوں میں سے ایک گاوں ایسا بھی ہے جہاں کثیر تعداد میں جڑواں بچے جنم لیتے ہیں۔ بعض گھرانے ایسے بھی ہیں جن کے تقریباً تمام افراد جڑواں ہیں۔ان کے چہروں اور خدو خال میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے اس حد تک کہ دور دراز سے آنے والے افراد خود کو” کلوننگ“ کے موضوع پر بننے والی کسی فلم کے سیٹ پر کھڑامحسوس کرتے ہیں۔ ” ایگیواوبرا “ نامی گاوں ، براعظم افریقہ میںنائیجریا کے جنوب مغرب میںواقع ہے۔یہ دنیا کا واحد گاوں ہے جس کے قیام کے بعد سے ، اس میں جڑواں بچوں کی پیدائش کا تناسب دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے جبکہ اس کا شمار براعظم افریقہ کے قدیم ترین گاوں میں ہوتا ہے۔یہاں سالانہ گیارہ فیصد سے بھی زیادہ جڑواںبچے دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ اس گاوں میں ایسے بے شمار گھرانے ہیں جہاں تواتر کے ساتھ اٹھ یا اس سے زائد مرتبہ جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے جسے ماہرین نے انتہائی انوکھاقرار دیا ہے۔ یہاں رہنے والے افراد کی شکلوں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے اور ان کو علیحدہ سے شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے۔گاوں کی ایک خاتون کے مطابق،وہ اکثر و بیشتر اپنے خاوند اور اس کے بھائی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرپاتی، دونوں ایک ہی وقت کی پیدائش ہیں۔زیادہ تر اسکولوں میں ایک ہی جماعت میں بڑی تعداد میں جڑواں بچے موجود ہوتے ہیں اور اساتذہ کے لیے ان سے سوالات کرنا بذات خودایک امتحان ہوتا ہے۔اس گاوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو” آئیڈنٹی کل ٹوئن“ کہا جاتا ہے، جب کہ ایگیو اوبرا گاوںکو گلوبل ریفوج فار ٹوئنزیعنی ”دنیا بھر کے جڑواں افراد کی پناہ گاہ “ کا خطاب دیا گیا ہے۔ایک ہی وقت میں ایک سے زائد بچوں کی پیدائش کے معاملے میں ڈی این اے کے ماہرین بھی دلچسپی لے رہے ہیںاور اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ اس گاوں میں ایسی کون سی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے یہاں اتنی کثیر تعداد میں جڑواں بچے جنم لیتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جوڑے کے یہاں دو مرتبہ تو جڑواں بچے پیدا ہوسکتے ہیں لیکن تیسری مرتبہ اس کا امکان شاذونادر ہی ہوتا ہے جبکہ چوتھی اور پانچویں بار یہ قطعی ناممکنات میں سے ہے۔نائیجریاپر غیرملکی استعمار سے قبل اس مملکت کے جنگلات میں پھیلے ہوئے گاوں اور قصبات وحشیانہ رسومات کے پابند تھے۔اس دور میں جڑواں بچوں کی پیدائش کو نحوست اور قدرت کے قہر و غضب کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ خونخوار قبائلیوں کے مسلح دستے ایسے گھرانوں کی تلاش میں رہتے تھے جہاں انہیں کسی گھر میں جڑواں بچوں کی پیدائش کی سن گن ملتی، وہ بچوں اوران کی ماوں کو پکڑ کر سردار کے سامنے پیش کرتے جس کے حکم پر انہیں قربان گاہ کی بھینٹ چڑھا دیا جاتاتھا۔سن 1960میں آزادی کے بعدنائیجریا کی حکومت کی طرف سے اس کے تدارک کے لیے بھرپور اقدامات کیے گئے جس کے بعد اس فرسودہ قبائلی رسم کا خاتمہ ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…