منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

وزیر اعظم اور آرمی چیف سعودی عرب اور ایران کے ’مصالحتی مشن‘ پر روانہ

datetime 18  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف ایران اور سعودی عرب کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پیر کو ’مصالحتی مشن‘ پر سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں۔پاکستانی دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق اپنے اس دورے کے دوران وہ منگل 19 جنوری کو ایران بھی جائیں گے اور دونوں ممالک کے دورے کے دوران اعلیٰ سطح کا ایک وفد بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہوگا۔اس سے قبل پاکستان نے کہا تھا وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں عدم مداخلت کے اصول پر کاربند رہنا چاہتا ہے اور وقت آنے پر اپنا کردار ادا کرے گا۔اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں دفترِ خارجہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستان کے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی گہرے برادرانہ تعلقات ہیں اور اسے ان دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تشویش ہے۔دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف چاہتے ہیں کہ دونوں ملک اپنے باہمی اختلافات کو اس مشکل وقت میں امتِ مسلمہ کے اتحاد کی خاطر پرامن طریقے سے حل کریں۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے رکن ممالک میں برادرانہ تعلقات کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔نواز شریف کے ساتھ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی ایران اور سعودی عرب کے دورے پر جائیں گے پاکستانی وزیرِ اعظم سعودی عرب اور ایران کے دوروں کے دوران سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ایرانی صدر حسن روحانی سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔واضح رہے کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے سعودی عرب کا اتحادی ہے اور حال ہی میں سعودی عرب کے وزیر دفاع اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر خارجہ عادل الجبیر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔نواز شریف کے ساتھ پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی ایران اور سعودی عرب کے دورے پر جا رہے ہیں۔سعودی عرب کے وزیر دفاع محمد بن سلمان السعود نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران بھی وزیرِ اعظم نواز شریف کے علاوہ جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کی تھی۔فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جنرل راحیل نے اس موقع پر سعودی وزیرِ دفاع کو بتایا تھا کہ پاکستان خلیجی ریاستوں کی سلامتی کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ایران اور سعودی عرب کے تعلقات حال ہی میں اس وقت کشیدہ ہوئے جب سعودی عرب میں شیعہ عالم شیخ نمر باقر النمر کو سزائے موت دی گئی۔اس سزائے موت کے بعد ایران میں شدید ردعمل سامنے آیا اور سعودی سفارتخانے پر مظاہرین نے حملہ بھی کیا۔اس حملے کے بعد سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…