جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

اضافی بوجھ کا شور‘ پی آئی اے میں خاموشی سے1000افراد بھرتی

datetime 12  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک ایسے وقت میں جب قومی ایئرلائن میں اضافی بوجھ کا شور مچ رہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ ادارہ نقصان میں جارہا ہے، وفاقی حکومت نے پی آئی اے میں خاموشی سے مزید 1000 افراد بھرتی کرلیے ہیں۔قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے پی آئی اے نجکاری کو دی گئی ایک بریفنگ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف گزشتہ سال میں ن لیگ کی حکومت نے پی آئی اے میں 400 افراد کو بھرتی کیا۔ پی آئی اے کی انتظامیہ اور نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ گذشتہ سال ادارے کے خسارے میں 27.8 بلین روپے کا اضافہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اپنے بیانات میں گذشتہ حکومتوں پر پی آئی اے میں اضافی بھرتیاں کرنے اور ادارے کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگاتی رہی ہے۔اضافی بھرتیوں سے پی آئی اے کا خسارہ 254.7 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار ادارے کی نجکاری پر اپوزیشن کو منانے میں ناکام ہوگئے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ وفاقی حکومت نے پی آئی اے میںبھرتیاں ایسے وقت میں کی ہیںجب وہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قومی ایئرلائن کو آئندہ جون تک فروخت کرنے کا وعدہ کرچکی ہے۔پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے اپنے آخری تین سال میں ادارے میں 1435 افراد کو بھرتی کیا تاہم پیپلزپارٹی نے کبھی بھی اپنے ووٹروں کو ملازمتیں دینے کے عمل کو چھپایا نہیں۔ دونوں ادوار کو دیکھا جائے تو پی آئی اے کے ملازمین کی مجموعی تعداد 2008 میں 18 ہزار 36 تھی جو 2015 تک 14 ہزار 847 رہ گئی۔ اگر ن لیگ کی حکومت مذکورہ ایک ہزار افرادکو بھرتی نہ کرتی تو یہ تعداد 14 ہزار سے بھی نیچے آسکتی تھی۔پیر کو بھی وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے پی آئی اے کی فروخت کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں جن میں تحریک انصاف، پاکستان پیپلزپارٹی، عوامی مسلم لیگ و دیگر شامل ہیں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی لیکن حزب اختلاف کی ان جماعتوں نے معاملے سے مکمل اختلاف کیا۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ سول ایوی ایشن کی جانب سے مختلف ایئرلائنز کو لینڈنگ رائٹس دینے سے پی آئی اے کے مارکیٹ شیئرمیں بھی کمی آرہی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…