ہفتہ‬‮ ، 11 جولائی‬‮ 2026 

اقتصادی راہداری منصوبہ،پرویز خٹک نے ایک اہم سوال اٹھا دیا

datetime 11  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر گذشتہ برس 28 مئی کے کل جماعتی اجلاس میں فیصلوں سے مکر رہے ہیں۔بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اس مسئلے پر جلد ایک اور کل جماعتی اجلاس طلب کرے گی جس میں چھوٹے صوبوں کے مطالبات نہ تسلیم کرنے پر حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ 46 ارب ڈالر کی مالیت سے تعمیر کی جانے والی اس راہداری کا پہلے مغرقی روٹ تعمیر کیا جائے گا۔’ہم نے وزیر اعظم کے وعدے پر اعتبار کر لیا لیکن اب دیکھ رہے ہیں کہ چھیالیس ارب سڑکوں اور توانائی کے منصوبوں کے لیے مختص کر دیے گئے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ پنجاب میں ہے۔ تمام کوئلے اور ایل این جی کے منصوبے پنجاب میں ہیں۔ ہم لڑائی نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہم روٹ کے خلاف ہیں۔‘ان کا موقف تھا کہ گوادر اور خیبر پختونخوا کے راستے مشرقی شاہراہ کے مقابلے میں مغربی روٹ چھ سو کلومیٹر مختصر ہے۔’پہلے بتایا گیا تھا کہ دونوں روٹس پر انفراسٹرکچر یکساں ہوگا۔ لیکن جب اس سے زیادہ مناسب (مغربی) روٹ پر نہ توانائی کے پلانٹ ہوں گے، نہ کوئی صنعتی پارکس اور انفراسٹرکچر ہوگا تو پھر یہ کیسے چلے گا؟ یہ توانائی اور دیگر کوئی چھوٹے منصوبے نہیں ہیں۔ یہ انڈسٹریل پارکس چھوٹے چھوٹے نہیں بلکہ پورے پورے شہر بنیں گے۔ تو جب (مغربی روٹ) پر توانائی نہیں ہوگی، بجلی نہیں ہوگی، موٹر وے نہیں ہوں گے تو کیسے چلیں گے۔‘پہلے بتایا گیا تھا کہ دونوں روٹس پر انفراسٹرکچر یکساں ہوگا۔ لیکن جب اس سے زیادہ مناسب (مغربی) روٹ پر نہ توانائی کے پلانٹ ہوں گے، نہ کوئی صنعتی پارکس اور انفراسٹرکچر ہوگا تو پھر یہ کیسے چلے گا؟ یہ توانائی اور دیگر کوئی چھوٹے منصوبے نہیں ہیں۔ یہ انڈسٹریل پارکس چھوٹے چھوٹے نہیں بلکہ پورے پورے شہر بنیں گے۔ تو جب (مغربی روٹ) پر توانائی نہیں ہوگی، بجلی نہیں ہوگی، موٹر وے نہیں ہوں گے تو کیسے چلیں گے۔پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں خیبر پختونخوا کی حکومت حالیہ دنوں میں اس منصوبے پر کافی شور کر رہی ہے۔ صوبائی اسمبلی اس پر قرار داد بھی منظور کر چکی ہے۔ بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر مرکزی حکومت نے دانشمندی سے ’بلیک اینڈ وائٹ‘ میں چھوٹے صوبوں کے خدشات دور نہ کیے تو یہ منصوبہ بھی کالا باغ ڈیم کی طرح متنازع ہوسکتا ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اس منصوبے سے متعلق چھوٹے صوبوں سے اپنے وعدے پورے کریں۔خیبر پختونخوا کے برعکس بلوچستان میں اس وقت حکمراں مسلم لیگ (ن) ہی ہے لہٰذا وہ صوبائی حکومت کی سطح پر اس پر کچھ زیادہ اعتراض نہیں کر رہی ہے۔ لیکن وہاں کی سیاسی جماعتیں بھی اپنے خدشات کے اظہار میں پیش پیش ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی نے اتوار کو اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس منقعد کی جس میں یہ شکایات کھل کر سامنے آئیں۔چین بھی حکومت پاکستان سے کہہ چکا ہے کہ وہ آپس کے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ ایسے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کافی مشکل سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وراثت


بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…