بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

افغانستان میں مصالحتی عمل غیر مشروط ہو نا چاہئے:سرتاج عزیز

datetime 11  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغانستان میں مصالحتی عمل غیر مشروط ہو اور اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔افغان طالبان سے امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے چار ملکی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو اسلام آباد میں شروع ہوا۔ اس کے آغاز سرتاج عزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل کے آغاز کے لیے کسی قسم کی شرائط نہ رکھی جائیں کیونکہ ایسا کرنا مدد گار ثابت نہیں ہو گا۔سرتاج عزیز نے کہا کہ تمام طالبان گروہوں کو مذاکراتی عمل کی پیشکش اور طالبان گروہوں کی جانب سے اس پیشکش کے جواب سے قبل فوجی کارروائیوں کی دھمکی مثبت قدم نہیں ہو گا۔’مذاکرات کے لیے تیار گروہ اور وہ گروہ جو تیار نہیں ہیں کے بارے میں تفریق اور مذاکرات کے لیے تیار نہ ہونے والے گروہوں کو کیسے نمٹا جائے کے بارے میں اس وقت فیصلہ کیا جائے جب مذاکرات پر رضامند کرنے کی تمام تر کوششیں کی جا چکی ہوں۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں افغانستان میں مذاکرات کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے اور مذاکرات کو بامعنی طریقے سے آگے بڑھائے جانے کے حوالے سے روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔اس اجلاس کا سب سے پہلا اور اہم مقصد ہے مصالحتی عمل کی سمت کے تعین کے علاوہ اس کیاہداف کا تعین کرنا ہو گا تاکہ حقیقت پر مبنی ٹائم فریم طے کیا جا سکے۔’اہم ہے کہ حقیقت پر مبنی اندازہ لگائا جائے اور مصالحتی عمل میں ممکنہ رکاوٹوں کو جانا جائے تاکہ عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘خارجہ امور کے مشیر نے کہا کہ مصالحتی عمل کا اہم ہدف ایسی صورتحال پیدا کرنا ہے کہ طالبان گروہ مذاکراتی عمل کا حصہ بنیں اور سیاسی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے مسلح جدوجہد کو ترک کریں۔’اس لیے یہ ضروری ہے کہ مذاکراتی عمل کے آعاز کے لیے کسی قسم کی شرائط نہ رکھی جائیں کیونکہ ایسا کرنا مدد گار ثابت نہیں ہو گا۔‘سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ مصالحتی عمل کے لیے ضروری ہے کہ اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔انھوں نے خطاب میں کہا کہ ’مذاکراتی عمل اور اس کے نتائج کے حوالے سے روڈ میپ حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں تبدیلی کی گنجائش ہونی چاہیے۔‘خیال رہے کہ گذشہ ماہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ طالبان سے امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے ضرورت ہے اور مصالحتی عمل کی بحالی کے لیے پاکستان میں بات چیت کا آغاز کیا جائے گا جس میں امریکہ اور چین بھی شامل ہوں گے۔اس سلسلے میں بات چیت کے آغاز کا حتمی فیصلہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان گذشتہ ماہ کابل میں ہونے والی ملاقات میں ہوا تھا۔جنرل راحیل نے اپنے دورہ افغانستان میں ملک کے صدر کے علاوہ چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ اور افغانستان میں موجود امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل کیمبل سے بھی ملاقات کی تھی۔خیال رہے کہ پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں افغانستان کی حکومت اور طالبان کے مابین جاری مذاکرات کا سلسلہ افغان طالبان کے سابق سربراہ ملا عمر کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد منقطع ہوگیا تھا۔مری میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مصالحتی عمل کابل سے معلومات ’لیک‘ ہونے کی وجہ سے منقطع ہوا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…