جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

پاکستان نے وہ کردکھایا جوامریکہ سوچ بھی نہیں سکتا

datetime 2  فروری‬‮  2016 |

راولپنڈی (نیوزڈیسک)ایک جانب امریکہ افغانستان میں طالبان سے ایک دہائی برسر پیکار رہ کر بھاگ رہا ہے تو دوسری جانب پاک فوج نے 2015میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں بے مثال کامیابیاں حاصل کیں اور وہ کردکھایا جس کے بارے میں امریکہ سوچ بھی نہیں سکتاتھا۔ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں بدامنی کے پیچھے پس پردہ امریکہ اور افغانستان کا بھی ہاتھ رہا اور دہشت گرد حملے کرکے افغانستان میں روپوش ہوتے رہے لیکن اس کے باوجودپاک فوج نے 2015میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں بے مثال کامیابیاں حاصل کیں آپریشن میں دشمن کو کاری ضرب لگی اور 90 فیصد علاقہ دہشت گردوں سے کلیئر کرالیا گیا دہشتگردوں کے 837ٹھکانوں سمیت انفراسٹرکچر تباہ کیا گیا 3400دہشتگرد مارے گئے چار سول افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ۔ تفصیلات کے مطابق 2015 کا سورج طلوع ہوا تو قوم ایک نئے عزم کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کا ارادہ کرچکی تھیں ایک طرف آپریشن ضرب عضب میں تیزی آئی تو دوسری جانب شہری علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں میں امن کے دشمنوں کو ٹھکانے لگانے کا سلسلہ شروع ہوا۔شمالی وزیرستان میں میران شاہ، میرعلی، دتہ خیل، رزمک، گریوم، شیوہ، اسپن وام، بویا اور دیگان کے علاقوں سے شدت پسندوں کا صفایا کردیا گیا، شوال میں بھی نوے فیصد علاقہ کلیئر کرالیا گیا، دہشت گردوں کے 837 ٹھکانوں سمیت ان کا انفراسٹرکچر تباہ کردیا گیا، جبکہ 3400 دہشت گرد مارے گئے، انٹیلی جنس کی بنیاد پرملک بھرمیں 10 ہزار سے زائد کارروائیوں میں 150 سے زائد خطرناک دہشت گرد مارے گئے اور18 ہزارسے زائد کو گرفتار کیا گیا۔آپریشن ضرب عضب میں سیکیورٹی فورسز کے 400 افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، جبکہ ایک ہزار 914 جوان زخمی ہوئے تاہم اب بھی پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے تباہ کیے جارہے ہیں۔15 جون کو ختم ہونے والے آپریشن خیبر2 کے باعث پاک فوج نے خیبرایجنسی پاک افغان سرحد پرواقع تینوں پاسز تیراہ مزاتل، کنڈاو غریبی اور درہ مدراد کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ خیبرایجنسی کی تحصیل باڑہ کو دہشت گردوں سے کلیئر کرانے کے بعد سول انتظامیہ کے سپرد کردیا گیا ہے، شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں آئی ڈی پیز کی واپسی بھی شروع ہوگئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…