بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

وفاقی حکومت نے رینجرز کے لئے بڑا اعلان کر دیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کراچی میں رینجرز کے خصوصی اختیارات میں توسیع کے حوالے سے کم و بیش ایک ماہ سے سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان جاری جنگ اس وقت اختتام پذیر ہوگئی جب وفاق نے رینجرز کے خصوصی اختیارات کو مکمل بحال کرتے ہوئے اسے ’قانونی‘ تحفظ فراہم کردیا۔وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا ہے کہ جمعہ کے روز وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹی فکیشن کے ذریعے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کراچی میں رینجرز کے خصوصی اختیارات میں دو ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔وفاق کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹی فکیشن کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔یاد رہے کہ رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں کراچی آپریشن کے حوالے سے رینجرز کے خصوصی اختیارات کی مدت ختم ہوگئی تھی، تاہم وہ بغیر کسی قانونی حیثیت کے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔رینجرز کے خصوصی اختیارات کی مدت پوری ہونے کے کئی دنوں بعد سندھ اسمبلی میں رینجرز کے ’محدود‘ خصوصی اختیارات کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی گئی اور بعد ازاں صوبائی حکومت نے وفاق کو اس حوالے سے سمری ارسال کی جسے وفاق نے مسترد کردیا۔وفاق کی جانب سے سمری مسترد کیے جانے کو سندھ حکومت نے صوبے پر حملہ قرار دیا۔

سندھ اسمبلی میں منظور کی جانے والی قرارداد کے مطابق رینجرز کو کراچی میں صرف ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور فرقہ وارانہ قتل کے انسداد کے لیے خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔قرارداد میں مزید کہا گیا تھا کہ ایسا شخص جو کہ براہ راست دہشت گردی میں ملوث نہ ہو، صرف مشتبہ ہو اور اس پر دہشت گردی کے لیے اکسانے یا انھیں رقم فراہم کرنے کا شک ہو تو اسے کسی بھی قانون کے تحت حراست میں نہیں رکھا جاسکتا اور اس کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ کی پیشگی تحریری اجازت کی ضروری ہے۔اس کے علاوہ رینجزر، سندھ حکومت سے تحریری اجازت کے بغیر صوبے کے سرکاری دفاتر اور دیگر سرکاری عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی نہیں کرسکتی۔کراچی میں رینجرز کے خصوصی اختیارات کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ رینجرز کو کراچی میں برقرار رکھنے کے حوالے سے وفاق کے پاس بہت سے اختیارات حاصل ہیں.ان کا کہنا تھا کہ یہ وفاقی فورس ہے جو وفاقی قانون انسداد دہشت گردی کے تحت سندھ میں کام کررہی ہے۔رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے ڈاکٹر عاصم حسین کا، جو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں، ذکر کیے بغیر چوہدری نثار نے یہ الزام لگایا تھا کہ سندھ حکومت صرف ایک شخص کو بچانے کے لیے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کے حوالے سے رینجرز کو متنازع بنانا خطرناک ہے اور رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے لیے تاخیری حربے استعمال کرنا دہشت گردوں اور شدت پسندوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے۔انھوں نے خبردار کیا کہ آئینی، قانونی اور جمہوری فریم ورک کے تحت وفاق کو 4 سے 5 اختیارات حاصل ہیں۔یاد رہے کہ کراچی میں رینجرز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 147 اور 1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 4 کی ذیلی دفعہ 3 کے تحت عمل میں لائی گئی تھی۔ رینجرز کے خصوصی اختیارات کے حوالے سے وزارت داخلہ کے جاری نوٹی فکیشن کے جواب میں آصف زرداری کے ترجمان سینٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ حکومت پر حملے کی مذمت کرتی ہے۔انھوں نے کہا کہ نوٹی فکیشن رینجرز کی جانب سے کیے گئے اچھے کاموں پر بھی سوالیہ نشان لگا سکتا ہے اور فورسز کو متنازع بنا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…