واشنگٹن(نیوز ڈیسک)پاکستان اور افغانستان کے لیے امر یکہ کے خصوصی مشیر رچرڈ اولسن کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو شکست دینے کے لیے انھیں افغان طالبان سے بھی لڑنا ہوگا.رچرڈ اولسن نے سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کو بتایا کہ اْن کے خیال میں پاکستانی حکومت اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستانی طالبان اور افغان طالبان کے درمیان زیادہ خون خرابہ ہے اور یہ ان کی ایک خواہش بھی ہے کیوں کہ ماضی کی طرح یہ اْن کے لیے اتنا آسان نہیں ہے، چاہے وہ اچھے اوربرے طالبان میں تمیز کے اپنے اصول پر قائم ہی کیوں نہ رہیں.رچرڈ اولسن نے مزید کہا کہ دہشت گردی، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا مرکز رہی ہے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ تمام مذاکرات میں امریکا نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف کارروائی کرے.انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے اندرونی دہشت گردی کے خطرات کے خلاف نہایت اہم اقدامات کیے ہیں اور امریکا، اسلام آباد پر اسی قسم کے اقدامات افغان طالبان کے خلاف اٹھانے پر بھی زور دیتا رہے گا.انھوں نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں طالبان کے ٹھکانے بڑی حد تک تباہ کیے جاچکے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جس کی ہمیں ایک طویل عرصے سے خواہش تھی.تاہم اولسن نے شکایت کی کہ پاکستان نے اپنی زیادہ تر توجہ ٹی ٹی پی پر مرکوز رکھی، بجائے بیرونی دہشت گردوں کے، جو اْن (پاکستان) کے ہمسایہ ممالک افغانستان یا ہندوستان کے لیے خطرات پیدا کرنے کا باعث ہیں.ایک سوال کے جواب میں اولسن نے بتایا کہ اسلامک اسٹیٹ (داعش) افغانستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں ننگر ہار میں بڑی تعداد میں موجود ہے، لیکن بظاہر انھیں عراق اور شام میں موجود اپنے گروپ رہنماؤں سے ہدایات موصول نہیں ہو رہیں.انھوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں اس طرح طالبان کے وہ دھڑے اور کمانڈرز بھی متاثر ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی وفاداریاں تبدیل کی تھیں. ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ تاہم اس سے خطرات میں کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس مشرق وسطیٰ سے افغانستان۔پاکستان تک مواد اور جنگجوؤں کے بہاؤ کے لیے کوئی براہ راست واسطہ نہیں ہے.ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے رچرڈ اولسن نے تسلیم کیا کہ رواں برس افغانستان میں لڑائی میں اضافہ ہوا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ صرف اور صرف 2003 میں طالبان کے بانی کمانڈر ملا عمر کی ہلاکت کا انکشاف تھا.رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں مختلف طالبان کمانڈروں کے درمیان بہت شدید مقابلہ تھا، جس کی وجہ سے افغانستان میں تشدد میں مزید اضافہ ہوا
افغان طالبان سے کس کو لڑائی کی ضرورت ہے ، اولسن نے بتا دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سنت یہ بھی ہے
-
سیمنٹ کی قیمت میں کمی ریکارڈ، فی بوری کی نئی قیمت سامنے آگئی
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
-
کن کن شہروں میں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
-
سونا سستا، فی تولہ قیمت میں بڑی کمی، عوام کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
پمزہسپتال آتشزدگی واقعہ میں نومولود بچوں کی اموات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟حامد میر نے نام لی...
-
صنف تبدیل کرنے والی انایا بنگر کو خواتین کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی
-
بل گیٹس کی مستقبل کے بارے میں تشویشناک پیشگوئی
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ،اپنا گھر بنانے والوں کیلئے بڑی خبر
-
یو اے ای ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم خبر
-
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
ایپل نے آئی فون لانچ ایونٹ کی تاریخ کا اعلان کر دیا
-
‘بچی کو ڈاکٹر نے نہیں میں نے بچایا’، پمز واقعے میں بچ جانیوالی واحد نومولود کی خالہ نے ا...



















































