نئی دہلی (نیوزڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ملاقات ہوئی ہے جس کے حوالے سے تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ملاقات بھارتی وزیراعظم کی خواہش اور دعوت پر ہوئی جبکہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ عمران خان کی درخواست پر بھارتی وزیراعظم نے ملاقات کی۔ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت تعلقات کی بحالی اور نواز شریف، نریندر مودی ملاقات کا حامی ہوں، نریندر مودی سے ملاقات مثبت رہی۔ بھارتی میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مودی سے کرکٹ سیریز کرانے کی بات کی اور کہا جو چیز بھی تعلقات بہتر کرے وہ کرنی چاہئے۔ پاکستان بھارت کرکٹ سیریز کی بات پر مودی جی نے بڑی سی مسکراہٹ دی مودی کی مسکراہٹ کو مثبت لے رہا ہوں۔ پوری زندگی دشمنی تو نہیں چل سکتی۔ نریندر مودی کی مسکراہٹ کے معنی نہیں بتا سکتا کہ ہاں تھی یا ناں، میں اسے ہاں سمجھتا ہوں، دونوں ممالک کے عوام میں رابطوں کیلئے کرکٹ مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک سوال پر عمران نے کہا کہ مجھے سیاست بطور کیریئر اپنانا ہو تو خود کو گولی مار دوں گا گھر گھر جا کر ووٹ مانگنا عام آدمی کا کام نہیں۔ وزیراعظم بنے بغیر مجھے اللہ نے اپنے ملک میں بہت عزت دی۔ پاکستان میں بہت سے وزیراعظم آئے اور چلے گئے اگر وزیراعظم بنتے ہیں تو کچھ کرکے بھی دکھانا چاہئے۔ معاشرے میں ظلم ہو رہا ہے تو اسے روکنا سب کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل روشن ہے۔ عمران خان نے نریندر مودی کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ عمران خان بھارتی اخبار کی دعوت پر کانفرنس میں شرکت کیلئے بھارت گئے ہیں۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ ملاقات بھارتی وزیراعظم کی دعوت پر ہوئی۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دونوں رہنمائوں کے درمیان ملاقات مثبت رہی۔ عمران نے کہا کہ پاکستانی عوام نے طے کر لیا ملک میں جمہوریت کے سوا کوئی نظام نہیں چلے گا۔ وزیراعظم کی کرسی میرا مقصد نہیں بلکہ وزیراعظم بن کر عوام کیلئے کچھ کرنا ہے۔ انہوں نے کرکٹ پر گفتگو کرتے کہا کہ جاوید میانداد آخری گیند تک مقابلہ کرتے تھے جاوید میانداد کی بہت بڑی خوبی تھی کہ دبائو میں اچھا کھیلتے تھے۔ کرکٹ کیریئر میں ویوین رچرڈ سے اچھا بیٹسمین اور مائیکل ہولڈنگ سے اچھا بولر نہیں دیکھا، میں ڈپلومیٹ سیاستدان نہیں۔ نواز شریف کو مودی سے خفیہ ملاقات کی ضرورت نہیں تھی جنگوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے پاکستان بھارت تجارت متاثر نہ ہونے دینے کا عزم ہونا چاہئے۔ پاکستان بھارت تجارت شروع ہو جائے تو غربت ختم ہو جائے۔ پاکستان میں فوج کے اقتدار میں آنے کا کوئی خطرہ نہیں۔ میڈیا اور عدلیہ آزاد ہے لیکن الیکشن کمشن آزاد نہیں۔ پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تو میں نے مخالفت کی واحد سیاستدان تھا جو گرفتار کیا گیا۔ تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں سانحہ پشاور کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان بنایا۔ دہشت گردی میں خاطر خواہ کمی کے باعث جنرل راحیل شریف کی مقبولیت بڑھی، برصغیر کا مستقبل امن سے وابستہ ہے۔ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے اس کا حل ضروری ہے کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر دیرپا امن حاصل نہیں ہو سکتا۔
مودی ،عمران ملاقات بھارت اورتحریک انصاف میں نیاتنازع شروع
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کوکین ڈیلر انمول پنکی کے سنسنی خیز انکشافات، شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے نام بتادیے
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
بڑا کریک ڈاؤن ! 10غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیل کردیا گیا
-
ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
عالیہ بھٹ کو کانز فلم فیسٹیول میں شرمندگی کا سامنا
-
فرانسیسی صدر میکرون کو اہلیہ نے تھپڑ کیوں مارا وجہ سامنے آگئی
-
حکومت کا گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کا فیصلہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے؟
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی



















































