پیرس(نیوزڈیسک)افغان صدراشرف غنی نے کہاہے کہ وہ ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیںاور تعلقات میں بہتری کے لیے پرامید ہیںاوراس سلسلے میں بات چیت جاری ہے،پاکستانی حکومت افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان عسکریت پسندوں سے بات چیت آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکتی ہے، ہماری اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ہم مختلف مسائل کے تناظر کس طرح آگے بڑھیں اور کس طرح ہم آج سے لے کر اس موسم سرما کے اختتام تک ان مسائل کے حل تک پہنچ جائیں، پاکستان اس میں ثالثی کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے،اشرف غنی نے ایک فرانسیسی ٹی وی چینل سے بات چیت میں بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری ہے، افغان صدر اشرف غنی نے کہاکہ پاکستان افغان طالبان کے ساتھ کابل حکومت کی امن بات چیت دوبارہ شروع کرانے میں اپنا کردار ادا کرے، اشرف غنی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستان جلد ہی مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کے لیے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت کے نئے دور کا انعقاد کروا لے گا،اشرف غنی نے مفاہمتی بات چیت اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بڑی پیش رفت کے حوالے سے محتاظ رویہ اپنائے رکھا۔ انہوں نے تاہم کہا کہ وہ پاکستان کی جانب سے دورہ اسلام آباد کی دعوت پر غور کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر اگلے ہفتے وہ پاکستان جا سکتے ہیں۔اشرف غنی نے کہا کہ پاکستانی حکومت افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان عسکریت پسندوں سے بات چیت آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ اشرف غنی نے کہاکہ ہماری اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ہم مختلف مسائل کے تناظر کس طرح آگے بڑھیں اور کس طرح ہم آج سے لے کر اس موسم سرما کے اختتام تک ان مسائل کے حل تک پہنچ جائیں، پاکستان اس میں ثالثی کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے۔افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن مذاکرات کی کامیابی کےلئے ہمسائیہ ممالک کی حمایت ناگزیر ہے ¾ افغان حکومت چاہتی ہے کہ ہمسائے ممالک خاص طورپر پاکستان افغانستان میں ٹھوس امن اور استحکام کےلئے خالص پالیسی اختیار کریں ۔ایک انٹرویو میں انہوںنے کہاکہ ہم چاہتے ہیں پاکستان امن مذاکرا ت کےلئے پورے عزم کے ساتھ حمایت کرے کیونکہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں پائیدار امن اوراستحکام کا حصول مشکل ہے ۔صلاح الدین ربانی نے کہاکہ نیٹو اور اس کے اتحادیوں نے ایک بار پھر افغان سکیورٹی فورسز کو 2017ءتک ساڑھے چار ارب ڈالر امداد دینے کااعلان کیا ہے ہم ان کے ساتھ ملکر سکیورٹی بڑھانے امن کے فروغ ¾ انسانی حقوق کے احترام اور نیٹو و اتحادیوں کے ساتھ ملکر قوانین بنائینگے ۔واضح رہے کہ افغان وزیر خارجہ نے یہ بات ایسے وقت میں کہی جبکہ پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف نے گزشتہ روز ایک بیان میں افغانستان میں امن اور استحکام کےلئے بھرپور تعاون کااعلان کیا ہے ۔
افغانستان نے پھر پاکستان سے امیدیں قائم کرلیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری کمی کاامکان
-
مہنگی ایل پی جی سے ستائے عوام کے لیے اچھی خبر، قیمت میں بڑی کمی کا اعلان
-
پراپرٹی کی خرید و فروخت کرنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
وزیراعظم کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
-
موبائل سمز اور بینک اکاؤنٹس بلاک ہونے کا خدشہ ، نادرا نے شہریوں کو خبردار کردیا
-
11 اپریل کو عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
-
دیہات میں زمینوں کی خرید وفروخت کرنے والوں کیلیے بڑا ریلیف
-
پی ایس ایل 11: شائقین کیلیے بڑی خبر آگئی
-
ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کیساتھ بارش کی پیشگوئی، خطرات و آفات کا الرٹ جاری
-
لبنان میں اسرائیلی حملوں پر چین کا ردعمل سامنے آگیا
-
ایران کے پاس کتنے میزائل ہیں؟ حیران کن اعداد و شمار سامنے آگئے
-
سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ
-
پنجاب حکومت کا سرکاری محکموں میں عرصہ دراز سے خالی پڑی گریڈ 1سے 16تک کی آسامیوں بارے اہم فیصلہ
-
بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی کا ایک اور ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرلیا



















































