منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

افغانستان نے پھر پاکستان سے امیدیں قائم کرلیں

datetime 3  دسمبر‬‮  2015 |

پیرس(نیوزڈیسک)افغان صدراشرف غنی نے کہاہے کہ وہ ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیںاور تعلقات میں بہتری کے لیے پرامید ہیںاوراس سلسلے میں بات چیت جاری ہے،پاکستانی حکومت افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان عسکریت پسندوں سے بات چیت آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکتی ہے، ہماری اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ہم مختلف مسائل کے تناظر کس طرح آگے بڑھیں اور کس طرح ہم آج سے لے کر اس موسم سرما کے اختتام تک ان مسائل کے حل تک پہنچ جائیں، پاکستان اس میں ثالثی کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے،اشرف غنی نے ایک فرانسیسی ٹی وی چینل سے بات چیت میں بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری ہے، افغان صدر اشرف غنی نے کہاکہ پاکستان افغان طالبان کے ساتھ کابل حکومت کی امن بات چیت دوبارہ شروع کرانے میں اپنا کردار ادا کرے، اشرف غنی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستان جلد ہی مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کے لیے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت کے نئے دور کا انعقاد کروا لے گا،اشرف غنی نے مفاہمتی بات چیت اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بڑی پیش رفت کے حوالے سے محتاظ رویہ اپنائے رکھا۔ انہوں نے تاہم کہا کہ وہ پاکستان کی جانب سے دورہ اسلام آباد کی دعوت پر غور کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر اگلے ہفتے وہ پاکستان جا سکتے ہیں۔اشرف غنی نے کہا کہ پاکستانی حکومت افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان عسکریت پسندوں سے بات چیت آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ اشرف غنی نے کہاکہ ہماری اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ہم مختلف مسائل کے تناظر کس طرح آگے بڑھیں اور کس طرح ہم آج سے لے کر اس موسم سرما کے اختتام تک ان مسائل کے حل تک پہنچ جائیں، پاکستان اس میں ثالثی کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے۔افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن مذاکرات کی کامیابی کےلئے ہمسائیہ ممالک کی حمایت ناگزیر ہے ¾ افغان حکومت چاہتی ہے کہ ہمسائے ممالک خاص طورپر پاکستان افغانستان میں ٹھوس امن اور استحکام کےلئے خالص پالیسی اختیار کریں ۔ایک انٹرویو میں انہوںنے کہاکہ ہم چاہتے ہیں پاکستان امن مذاکرا ت کےلئے پورے عزم کے ساتھ حمایت کرے کیونکہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں پائیدار امن اوراستحکام کا حصول مشکل ہے ۔صلاح الدین ربانی نے کہاکہ نیٹو اور اس کے اتحادیوں نے ایک بار پھر افغان سکیورٹی فورسز کو 2017ءتک ساڑھے چار ارب ڈالر امداد دینے کااعلان کیا ہے ہم ان کے ساتھ ملکر سکیورٹی بڑھانے امن کے فروغ ¾ انسانی حقوق کے احترام اور نیٹو و اتحادیوں کے ساتھ ملکر قوانین بنائینگے ۔واضح رہے کہ افغان وزیر خارجہ نے یہ بات ایسے وقت میں کہی جبکہ پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف نے گزشتہ روز ایک بیان میں افغانستان میں امن اور استحکام کےلئے بھرپور تعاون کااعلان کیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…