اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

افغانستان نے پھر پاکستان سے امیدیں قائم کرلیں

datetime 3  دسمبر‬‮  2015 |

پیرس(نیوزڈیسک)افغان صدراشرف غنی نے کہاہے کہ وہ ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیںاور تعلقات میں بہتری کے لیے پرامید ہیںاوراس سلسلے میں بات چیت جاری ہے،پاکستانی حکومت افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان عسکریت پسندوں سے بات چیت آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکتی ہے، ہماری اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ہم مختلف مسائل کے تناظر کس طرح آگے بڑھیں اور کس طرح ہم آج سے لے کر اس موسم سرما کے اختتام تک ان مسائل کے حل تک پہنچ جائیں، پاکستان اس میں ثالثی کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے،اشرف غنی نے ایک فرانسیسی ٹی وی چینل سے بات چیت میں بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری ہے، افغان صدر اشرف غنی نے کہاکہ پاکستان افغان طالبان کے ساتھ کابل حکومت کی امن بات چیت دوبارہ شروع کرانے میں اپنا کردار ادا کرے، اشرف غنی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستان جلد ہی مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کے لیے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت کے نئے دور کا انعقاد کروا لے گا،اشرف غنی نے مفاہمتی بات چیت اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بڑی پیش رفت کے حوالے سے محتاظ رویہ اپنائے رکھا۔ انہوں نے تاہم کہا کہ وہ پاکستان کی جانب سے دورہ اسلام آباد کی دعوت پر غور کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر اگلے ہفتے وہ پاکستان جا سکتے ہیں۔اشرف غنی نے کہا کہ پاکستانی حکومت افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان عسکریت پسندوں سے بات چیت آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ اشرف غنی نے کہاکہ ہماری اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ہم مختلف مسائل کے تناظر کس طرح آگے بڑھیں اور کس طرح ہم آج سے لے کر اس موسم سرما کے اختتام تک ان مسائل کے حل تک پہنچ جائیں، پاکستان اس میں ثالثی کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے۔افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن مذاکرات کی کامیابی کےلئے ہمسائیہ ممالک کی حمایت ناگزیر ہے ¾ افغان حکومت چاہتی ہے کہ ہمسائے ممالک خاص طورپر پاکستان افغانستان میں ٹھوس امن اور استحکام کےلئے خالص پالیسی اختیار کریں ۔ایک انٹرویو میں انہوںنے کہاکہ ہم چاہتے ہیں پاکستان امن مذاکرا ت کےلئے پورے عزم کے ساتھ حمایت کرے کیونکہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں پائیدار امن اوراستحکام کا حصول مشکل ہے ۔صلاح الدین ربانی نے کہاکہ نیٹو اور اس کے اتحادیوں نے ایک بار پھر افغان سکیورٹی فورسز کو 2017ءتک ساڑھے چار ارب ڈالر امداد دینے کااعلان کیا ہے ہم ان کے ساتھ ملکر سکیورٹی بڑھانے امن کے فروغ ¾ انسانی حقوق کے احترام اور نیٹو و اتحادیوں کے ساتھ ملکر قوانین بنائینگے ۔واضح رہے کہ افغان وزیر خارجہ نے یہ بات ایسے وقت میں کہی جبکہ پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف نے گزشتہ روز ایک بیان میں افغانستان میں امن اور استحکام کےلئے بھرپور تعاون کااعلان کیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…