اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

اپوزیشن جماعتیں حکومت کیخلاف صف آرا ہوگئیں

datetime 2  دسمبر‬‮  2015 |

ارب روپے کے نئے ٹیکس کے نفاذ کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مشترکہ احتجاج کی منصوبہ بندی شروع کردی۔عوام پر بھاری ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے 3 اہم اپوزیشن جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کے دوران اس کے خلاف پرزور احتجاج کریں گے۔اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس اہم عوامی معاملے پر پارلیمنٹ کو نظر انداز کیا، جس سے ہر شہری متاثر ہوگا۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نئے ٹیکس کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں پوری طاقت کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور ہم حکومت کو عوام کے معاشی قتل کی اجازت نہیں دیں گے۔ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کرنے پر اس حوالے سے کہا کہ ہم حکومت کے اس ظالمانہ اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ان کی جماعت حکومت کے اس اقدام کو غیر آئینی اور غیر قانونی سمجھتی ہے اور ایم کیو ایم اس کی ہر فورم پر مخالفت کرے گی۔ڈان سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ اس منی بجٹ نے حکومت کی ہر شعبے میں خراب کارکردگی کا پول کھول دیا ہے اور حکمرانوں کی نااہلی ثابت ہوگئی ہے۔نئے ٹیکس کے نفاذ کے خلاف احتجاج کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ان کی جماعت کا پیپلز پارٹی سے کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا، تاہم پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھائے جانے پر دونوں جماعتیں ہم آواز ہوں گی۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی شازیہ مری، نفیسہ شاہ، اعجاز جاکھرانی اور مخدوم سید مصطفیٰ محمود نے اسمبلی سیکریٹریٹ میں نئے ٹیکس کے خلاف تحریک التوا جمع کرادی جس میں اس معاملے پر ایوان میں باضابطہ بحث کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…