جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف نے تارکین وطن کیلئے آوازاٹھادی

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

ویلیٹا (نیوزڈیسک) وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگر دی کی مذمت کرتا ہے ¾بے گناہ افراد کی جان لینے کی کسی بھی وجہ کو جواز نہیں بنایا جاسکتا ¾حقیقی تارکین کے حقوق کے تحفظ کےلئے ایک مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ دولت مشترکہ سربراہان مملکت کے اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہجرت کرنے والے افراد کی اکثریت سزا اور تنازعات کی وجہ سے فرار ہونے والوں کی ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کےلئے تارکین وطن کے لئے ناکہ بندی جیسے قلیل المدتی اقدامات مفید ثابت نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی تارکین کے حقوق کے تحفظ کےلئے ایک مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک اییسا ملک ہے جہاں لاکھوں افراد ہجرت کرکے آئے اور یہاںگزشتہ 35برس سے رہائش پذیر ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دولت مشترکہ مختلف ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے جسے مزید مواقعوں کے ساتھ طویل المدتی تناظر میں قانونی تارکین وطن کی حمایت کرنی چاہیے۔ دولت مشترکہ سربراہان مملکت اجلاس کے دوران ”تشدد،انتہا پسندی اور بنیاد پرستی“ کے موضوع پر منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس پشاور میں سکول کے معصوم بچوں پر گھناﺅنا غیر انسانی حملہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے عوام کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جدوجہد کے مثبت نتائج سے متعلق شرکاءکو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم نے زور دیا کہ شر پسند عناصر کے خلاف بھر پور کارروائی کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا سہرا حکومت پاکستان کے سر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد پسپا ہورہے ہیں اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی مفاہمت پیدا کرکے ہم انتہا پسند سوچ کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے تجربات سے سیکھا ہے کہ صرف فوجی کارروائی یا طاقت کا استعمال کے ذریعے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی طرف سے لاحق خطرات کو ختم نہیں کیا جا سکتا ،اس عالمی مسئلے سے نمٹنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی درکار ہوتی ہے اس لئے پاکستان نے ایک جامع نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا جس میں تشدد کے خاتمے کیلئے قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ، مدارس کو قومی دھارے میں لانا ، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے اقدامات ، کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات ، انٹرنیٹ اور میڈیا کی نگرانی اور دہشتگردی کے مقابلے کےلئے پرعزم فورس کی تیاری جیسے اقدامات شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی اور انتہاپسندی سے نمٹنے کےلئے عالمی برادری کے ساتھ بھی تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردی کے خلاف اقوام متحدہ کے معاہدوں کی بھرپور پاسداری کرتے ہیں اور داعش کی طرف سے لاحق خطرات سے نبردآزما ہونے کی عالمی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…