منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

“حزب اللہ کے بلیک لسٹ دہشت گرد سعودی عرب میں نہیں” منصور الترکی

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

ریاض(آن لائن) سعودی وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ گذشتہ روز لبنانی حزب اللہ کے جن عناصر کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان پر پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا تھا وہ سعودی عرب میں موجود نہیں ہیں۔سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے غےر ملکی مےڈےا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی شدت پسند شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے وابستہ جن عناصر کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے ان پر پابندیاں عاید کی ہیں وہ سعودی عرب میں موجود نہیں اور نہ ہی ان کا تعلق سعودی عرب میں موجود دہشت گردوں کے ساتھ ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ روز ریاض حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے لیے کام کرنے والے عناصر اور بعض اداروں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں جنرل الترکی کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے لیے معاونت کرنے والے جن افراد اور اداروں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے وہ مشرق وسطیٰ کے مختلف ملکوں میں سرگرم ہیں مگر لبنان سے باہر کام کر رہے ہیں۔ حزب اللہ کی معاونت کرنے والے ادارے اور افراد نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ خلیجی ممالک اور سعودی عرب اور اس کے پڑوسی ملکوں کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔میجر جنرل الترکی نے کہا کہ حزب اللہ کے جن عناصر پر پابندیاں عاید کی گئی ہیں ماضی میں ان کے بنک کھاتے سعودی عرب کے بنکوں میں موجود تھے مگر انہیں منجمد کر دیا گیا ہے۔ حکومت نےحزب اللہ کی مالی معاونت کرنے والے تمام مشکوک کھاتوں کو بند کرتے ہوئے متعلقہ بنکوں کو سخت اقدامات کی ہدایت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ریاض حکومت حزب اللہ کی معاونت کرنے والے افراد اور کمپنیوں کو سعودی عرب میں کام کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایسے افراد اور عناصر سے پوری قوت سے نمٹا جائے گا۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی میں ملوث ہونے کے باعث حزب اللہ کے حامیوں کے خلاف کارروائی میں تمام ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ حزب اللہ کی حمایت اور مدد پر خاموشی کا کوئی جواز نہیں ہے۔یاد رہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے شاہی فرمان 44 کے تحت گذشتہ روز حزب اللہ سے تعلق اور تنظیم کی مالی معاونت کی پاداش میں علی موسیٰ دقدوق الموسوی، محمد کوثرانئ ، محمد یوسف احمد منصور، ادھم طباجہ، ایک سیاحتی کمپنی اور اس کی تمام ذیلی شاخوں، قاسم حجیج، حسین علی فاعور، مصطفیٰ بدرالدین، ابراہیم عقیل، فواد شکر، عبد النور الشعلان، محمد نجیب کریم اور محمد سلمان فواز نامی شدت پسندوں پر کو بلیک لسٹ قرار دیتے ہوئے ان پر پابندیاں عاید کی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…