منگل‬‮ ، 03 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

بیرون ملک پاکستانی ٹریڈ مشنز میں مقامی عملے کی بھرتی کے لیے نئی پالیسی تیار

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت پاکستان نے بیرون ملک قائم پاکستانی ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ مشنز میں مقامی ملازمین کی بھرتی کے لیے نئی پالیسی مرتب کرلی ہے۔

نئی ہدایات کے تحت بھارتی اور اسرائیلی نژاد افراد کو کسی بھی صورت ملازمت کے لیے اہل نہیں سمجھا جائے گا، جبکہ امیدوار کے ساتھ اس کے شریک حیات کی بھی مکمل جانچ پڑتال لازمی ہوگی۔ بھرتیوں میں میزبان ملک کے شہریوں کو ترجیح دی جائے گی، تاہم پاکستانی نژاد ایسے افراد بھی زیر غور آسکیں گے جن کے پاس متعلقہ ملک کا ورک پرمٹ موجود ہو۔وزارت تجارت نے پالیسی سے متعلق تفصیلی مراسلہ تمام ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کو ارسال کردیا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق مقامی عملے کی کسی بھی نئی بھرتی سے پہلے وزارت تجارت کی اجازت لینا ضروری ہوگا۔ تقرری صرف منظور شدہ خالی آسامیوں پر کی جاسکے گی اور ملازمین کی تنخواہوں و دیگر مراعات کا تعین ڈپلومیٹک ونگ کے طے کردہ پے اسکیل کے مطابق ہوگا۔

اگر کسی غیر معمولی صورت حال میں بھرتی کی ضرورت پیش آئے تو اس کے حق میں وجوہات اور مارکیٹ سروے بھی پیش کرنا ہوگا۔نئے قواعد کے تحت ملازمت کے امیدوار کے لیے کسی تسلیم شدہ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ تجارت سے متعلقہ شعبے میں تجربہ رکھنے والوں کو ترجیح حاصل ہوگی۔ وزارت سے اجازت ملنے کے بعد متعلقہ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفیسر سلیکشن کمیٹی قائم کرے گا، جو تحریری امتحان اور انٹرویو کے ذریعے امیدواروں کی جانچ کرے گی۔ اس عمل کے اختتام پر کامیاب قرار پانے والے تین امیدواروں کے ناموں پر مشتمل پینل حتمی منظوری کے لیے وزارت تجارت کو بھیجا جائے گا۔پالیسی کے مطابق منتخب امیدوار کو ابتدائی طور پر ایک سال کے کنٹریکٹ پر ملازمت دی جائے گی، جس کے پہلے 90 روز آزمائشی مدت ہوں گے۔ ملازم کی کارکردگی تسلی بخش ہونے کی صورت میں معاہدے میں ہر سال توسیع ممکن ہوگی، تاہم کسی بھی فرد کو اس عہدے پر مجموعی طور پر تین سال سے زیادہ برقرار نہیں رکھا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ ملازمین کی کارکردگی کا ہر تین ماہ بعد جائزہ لینا بھی لازمی ہوگا۔کنٹریکٹ کی مدت بڑھانے کے خواہش مند اداروں کو موجودہ معاہدہ ختم ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل توسیع کی درخواست وزارت تجارت کو ارسال کرنا ہوگی۔ تین سالہ مدت مکمل ہونے پر نئے سرے سے بھرتی کا عمل شروع کرنا ضروری ہوگا، جبکہ بعد ازاں منظوری حاصل کرنے کی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی۔

وزارت تجارت نے خبردار کیا ہے کہ پیشگی اجازت کے بغیر کی جانے والی بھرتی، معاہدے میں توسیع یا تنخواہوں کی ادائیگی قواعد کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔ ایسی بے ضابطگیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے آڈٹ اعتراضات کی ذمہ داری متعلقہ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفیسر پر عائد ہوگی۔ مقامی ملازمین سے متعلق کسی تنازعے یا عدالتی کارروائی کی ذمہ داری بھی اسی افسر کو اٹھانا ہوگی۔پالیسی میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارت تجارت اس معاملے میں انتظامی یا مالی نوعیت کی مداخلت نہیں کرے گی۔ نئی ہدایات نافذ ہونے کے بعد مقامی عملے کی بھرتی سے متعلق ماضی میں جاری کیے گئے تمام احکامات منسوخ تصور کیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سٹوڈنٹ لسٹ


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

Mind The Gape

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…