اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بچے کا پہلی مرتبہ ب فارم یا چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بنوانے والے والدین کے لیے نادرا نے ضروری دستاویزات اور اہم ہدایات واضح کردی ہیں۔
نادرا کے مطابق ب فارم کے حصول کے لیے والدین یا قانونی سرپرست کو رجسٹریشن سینٹر جاتے وقت اپنا شناختی کارڈ نمبر اور بچے کا تصدیق شدہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ ہمراہ لانا ہوگا۔ پیدائش کا سرٹیفکیٹ یونین کونسل، میونسپل کمیٹی یا کنٹونمنٹ بورڈ سے جاری شدہ ہونا ضروری ہے۔
اگر بچے کی پیدائش پاکستان سے باہر ہوئی ہو تو اس کے لیے اضافی دستاویزات درکار ہوں گی۔ نادرا کے مطابق ایسی صورت میں والدین غیر ملکی تفصیلی برتھ سرٹیفکیٹ یا پاکستانی سفارتخانے/مشن سے جاری کردہ ایس ون فارم پیش کرسکتے ہیں۔ شہریت یا نیچرلائزیشن سرٹیفکیٹ بھی قابل قبول دستاویزات میں شامل ہے۔
تین سال سے زائد عمر کے بچے کی موجودگی ضروری
نادرا کی ہدایات کے مطابق تین سال سے زیادہ عمر کے بچے کو ب فارم کے اندراج کے لیے نادرا سینٹر لانا لازمی ہے، کیونکہ اس کی تصویر، فنگر پرنٹس اور آئرس اسکین کیے جائیں گے۔
اگر بچے کی جانب سے درخواست والدین کے بجائے قانونی سرپرست جمع کرا رہا ہو تو اسے مجاز عدالت کی طرف سے جاری کردہ گارڈین شپ سرٹیفکیٹ بھی فراہم کرنا ہوگا۔
پاسپورٹ کے لیے ب فارم میں تصویر ضروری
نادرا کے مطابق اگر ب فارم بنوانے کے بعد بچے کا پاسپورٹ بھی بنوانا ہو تو ب فارم کے اندراج کے وقت بچے کی تصویر بنوانا ضروری ہوگا۔
والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ نادرا مرکز جانے سے قبل تمام مطلوبہ دستاویزات مکمل اور درست حالت میں تیار رکھیں تاکہ درخواست کے عمل کے دوران غیر ضروری تاخیر یا دشواری سے بچا جاسکے۔
ب فارم سے متعلق مزید معلومات یا رہنمائی کے لیے نادرا کی ہیلپ لائن 1777 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



















































