اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف دینے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بات چیت میں اہم پیش رفت حاصل کرلی ہے اور جلد سبسڈی سے متعلق مزید اقدامات سامنے آئیں گے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف سے نجی ٹی وی چینل کے بیورو چیف عامر الیاس رانا نے لندن روانگی سے قبل ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات پر مجوزہ ریلیف سے متعلق صورتحال پر بات کی۔
شہباز شریف کے مطابق آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات میں پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات اور کم آمدنی والے طبقات پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ہدفی پیٹرول سبسڈی کے معاملے پر آئی ایم ایف کی جانب سے کوئی سنگین اعتراض سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر بھی سوال کا جواب دیا اور اشارہ دیا کہ وہ اس معاملے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ ہیں۔
نیویارک میں وزیراعظم کی مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات کے علاوہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ سہ فریقی دفاعی معاملات پر بات چیت بھی شامل تھی۔ وزیراعظم نے ان روابط کو پاکستان کے سفارتی اور معاشی مفادات کے حوالے سے اہم قرار دیا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان رواں سال اگست میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع اور سلامتی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے میں یہ اصول شامل ہے کہ تین میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھی واضح کیا کہ مذکورہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں دفاع، امن اور استحکام کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
عامر الیاس رانا کے مطابق نیویارک میں قیام کے دوران وزیراعظم کی متعدد اہم سائیڈ لائن ملاقاتیں ہوئیں، جن میں ایرانی صدر سے ملاقات اور سعودی عرب و ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون سے متعلق مشاورت نمایاں رہی۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی امور سے متعلق مؤقف بھی پیش کیا۔



















































