اسلام آباد (نیوز ڈیسک): وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا آئینی راستہ موجود ہے، تاہم ان کے مطابق یہ ایک ناپسندیدہ عمل تصور کیا جاتا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کے دوران گورنر راج سے متعلق سوال پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آئین میں یہ اختیار پہلے سے موجود ہے، تاہم ان کے نزدیک اسے استعمال کرنا کوئی پسندیدہ طریقہ نہیں۔
پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر دفاع نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید مارچ کے لیے مطلوبہ ’’بھتہ‘‘ جمع نہیں ہوسکا، اسی لیے اسے ایک ہفتے کے لیے آگے بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید طنزیہ دعویٰ کیا کہ ممکن ہے ایک ہفتے بعد مارچ ہی منسوخ کردیا جائے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ بعض بڑے ناموں کی گرفتاریوں سے متعلق ’’فرمائشی گرفتاریوں‘‘ کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر مشاورت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی ممکنہ طور پر جلد لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرسکتی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کا لانگ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کیے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خیال میں پارٹی نے مارچ کے لیے مطلوبہ تیاری نہیں کی تھی۔ انہوں نے صوبے میں دہشت گردی، لاقانونیت اور کرپشن سے متعلق بھی الزامات عائد کیے اور سوال اٹھایا کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کے بجائے صوبے کے انتظامی معاملات پر توجہ کیوں نہیں دی جارہی۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہونے والے پی ٹی آئی لانگ مارچ کو مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے تمام معاملات پر مشاورت کے بعد نئی تاریخ پر اتفاق کیا۔
یوں گورنر راج سے متعلق حکومتی حلقوں کے بیانات اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی نئی تاریخ کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر بحث مزید بڑھ گئی ہے۔



















































