پشاور (نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے ارکان صوبائی اسمبلی کی گرفتاری یا حراست سے متعلق طریقہ کار واضح کرتے ہوئے آئی جی پولیس کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کردیا ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی رکن صوبائی اسمبلی کو گرفتار کرنے یا تحویل میں لینے سے قبل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے پولیس حکام کو بھیجے گئے مراسلے میں ’’اسمبلی پاورز، امیونٹیز اینڈ پریولیجز ایکٹ‘‘ کے تحت طے شدہ قواعد پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے مطابق کسی رکن اسمبلی کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے حراست میں لینے کی صورت میں بھی اسپیکر سے اجازت لینا لازمی ہوگی۔
مراسلے کے مطابق اگر کسی مجسٹریٹ یا انتظامی اتھارٹی کو رکن اسمبلی کی گرفتاری ضروری محسوس ہو تو اسے گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کرتے ہوئے اسپیکر سے باقاعدہ منظوری حاصل کرنا ہوگی۔
کسی بھی رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری یا حراست کے لیے مقررہ فارم کے ذریعے اسپیکر کو درخواست جمع کرانا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس درخواست میں گرفتاری یا حراست کی وجوہات اور متعلقہ تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اسپیکر کو عوامی مفاد کے پیش نظر متعلقہ پولیس افسر سے کیس کی رپورٹ یا چالان طلب کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
مراسلے میں مزید بتایا گیا ہے کہ عدالت میں چالان پیش کیے جانے سے قبل اسپیکر ضرورت محسوس ہونے پر متعلقہ معاملے کی انکوائری بھی کروا سکتے ہیں۔
اس طرح خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے ارکان اسمبلی کی گرفتاری اور حراست کے معاملات میں اسپیکر کی پیشگی اجازت اور مقررہ قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد کو ضروری قرار دیا ہے۔



















































