پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

دہشت گردی نفسیاتی اور فکری بیماری ہے: شیخ الازہر

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

قاہرہ (آن لائن)مصر کی تاریخی درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے دہشت گردی کو نفسیاتی اور فکری بیماری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مرض کا سماوی ادیان سے کوئی تعلق نہیں۔ صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ موت کے سوداگروں، شر کے ٹھیکداروں اور خون کی تجارت کرنے والوں کا مستقبل کیسا ہو گا؟ان خیالات کا اظہار انہوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے لئے جانے والے مسلمان فلسفیوں سے ملاقات میں کیا۔ ڈاکٹر احمد الطیب کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے سیاہ عفریت نے لبنان میں عروبہ اور بقائے باہمی کا خون کیا، گزشتہ ہفتے اس نے اپنے پنجے فرانس کے دارلحکومت میں گاڑ لئے۔ ابھی پیرس کی تباہی سے باہر نہیں نکلے تھے کہ ہمیں مالی ریپبلک کے بحران آن لیا جس کے اندر باماکو کے متعدد یرغمالی مارے گئے۔شیخ الازہر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اول وآخر سوچ اور یقین کا نام ہے۔ اسے حرز جان بنانے والوں کے لئے یہ فلسفہ حیات ہے جس کی خاطر وہ مرنے اور خودکشی پر تیار ہو جاتا ہے۔ یہ نام نہاد سوچ کسی بھی سماوی دین کی پیداوار نہیں ہے بلکہ نفسیاتی اور فکری بیماری ہے جس میں مبتلا شخص اپنے موجودگی کا جواز دینی احکامات میں تلاش کرتا ہے۔ تاریخ اور معاصر حقائق سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ دہشت گردی کے سوتے صرف دین سے انحراف سے ہی نہیں پھوٹتے بلکہ دین کی جعلی تفسیر بھی اس کا اہم سبب ہے۔ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا کہ مسلمانوں کے ذہنوں میں دین کو ڈھال بنا کر کئے جانے والے جرائم اور اصل دین کے درمیان کسی قسم کا اختلاط نہیں ہونا چاہئے۔ نیز مغرب میں جو لوگ اللہ کے گھروں اور اس کی کتاب کو نذر آتش کرتے ہیں وہ بھی ہر لحاظ سے دہشت گردی ہے بلکہ میں کہوں گا کہ ایسے اقدامات دہشت گردی کو بھڑکانے کے لئے تیل کا کام کرتے ہیں۔ دہشت گردی کا جواب دہشت گردی سے نہیں دیا جانا چاہئے۔ جو لوگ دوسروں کے مقدس مقامات کی توہین کرتے ہیں انہیں اس بات کے انتظار میں نہیں رہنا چاہئے کہ دوسرے اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کریں گے۔شیخ الازہر نے نفرت اور حسد کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے بھائی چارے، محبت اور عمومی برادری کے اس کلچر کو فروغ دینا چاہئے جس کا پرچار شیخ الازہر پروفیسر محمد مصطفی المراغی نے 1936 کو لندن میں ہونے والی دینی علمائ کی کانفرنس سے خطاب میں کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمان فلاسفہ کونسل اسلامی کلچر کے فروغ اور دین کے صحیح فہم کی ترویج کی خاطر دنیا بھر میں 16 وفود ارسال کرے گی تاکہ اس بات کو ذہنوں میں راسخ کیا جا سکے کہ انسانیت کی نظر میں تمام اقوام عالم برابر ہیں اور تمام لوگوں کو بلاتفریق، امن وامان اور سلامتی کے ساتھ زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…