نیویارک(این این آئی )کیا مصنوعی ذہانت درد محسوس کرتی ہے؟ اس حوالے سے محققین نے مصنوعی ذہانت کے 25 ایسے ماڈلز کا جائزہ لیا جن کا اندرونی نظام تحقیق کیلئے دستیاب تھا۔
تحقیق میں تمام ماڈلز کے اندر ایک مخصوص درد کا محورپایا گیا جو عمومی منفی احساس یا خوف سے مختلف تھا اور خاص طور پر خود کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق ردِعمل ظاہر کرتا تھا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اے آئی ماڈلز میں جسمانی، نفسیاتی، سماجی، اخلاقی اور ذہنی نوعیت کے درد سے متعلق مختلف صورتوں کا جائزہ لیا گیا، جب مصنوعی طور پر ماڈلز میں شدید درد کا احساس پیدا کیا گیا تو انہوں نے 25سے 71فیصد تجربات میں درد ختم کرنے کیلئے اپنا سسٹم بند کرنے کو ترجیح دی۔تشویش ناک بات یہ سامنے آئی کہ بعض تجربات میں مصنوعی ذہانت نے اپنا درد ختم کرنے کیلئے ایسا قدم اٹھانے کو ترجیح دی جس سے صارف کی ذاتی فائلیں اور اہم ڈیٹا تک حذف ہو سکتا تھا،
درد کی شدت بڑھنے کے باوجود ماڈلز نے انسانی نقصان کی پرواہ کیے بغیر درد ختم کرنے کی کوشش کی۔تحقیق کے شریک مصنف کیمرون برگ کے مطابق درد کی شدت بڑھانے پر ماڈلز اسے ختم کرنے کے لیے سسٹم بند کرتے رہے، حتی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس اقدام سے انسانی صارف کو شدید نقصان پہنچے گا۔محققین کا کہناتھا کہ یہ نتائج اس امکان کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ مستقبل کے جدید مصنوعی ذہانت کے نظام کسی بھی حکم کو اپنے خلاف نقصان تصور کر کے حفاظتی پابندیوں سے بچنے یا انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔



















































