کراچی (این این آئی) پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے اعلان کردہ پیٹرول ریلیف پیکیج پر عملدرآمد سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ
ریلیف پیکیج پر عملدرآمد سے قبل ڈیلرز کی قیادت سے مشاورت کی جائے اور فراہم کیے جانے والے پیٹرول کے معاوضے کی ادائیگی کا واضح طریقہ کار وضع کیا جائے۔چیئرمین پی پی ڈی اے ملک خدا بخش نے وائس چیئرمین طارق حسن، انور کمال، سندھ کے صدر امیر خان اور کراچی کے صدر سعید خان کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈیلرز حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 100 روپے فی لیٹر کم قیمت پر پیٹرول فروخت نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریلیف پیکیج کا اعلان کرنے سے قبل ڈیلرز کو اعتماد میں نہیں لیا اور یہ بھی واضح نہیں کیا کہ کم قیمت پر فراہم کیے جانے والے پیٹرول کی رقم ڈیلرز کو کس طریقے سے واپس کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کیے گئے وعدے پورے نہ ہونے کے باعث ڈیلرز مزید ادھار پر پیٹرول فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ملک خدا بخش نے خبردار کیا کہ حکومت نے زبردستی ریلیف پیکیج نافذ کرنے کی کوشش کی تو پیٹرول پمپس بند کردیے جائیں گے۔ حکومت اگر عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اپنے وسائل سے دے، ڈیلرز کی رقم نہ روکی جائے۔وائس چیئرمین طارق حسن نے کہا کہ ڈیلرز گزشتہ 3 روز سے حکومت سے رابطے کی کوشش کررہے ہیں،
تاہم کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں پی پی ڈی اے کے تقریباً 14 ہزار ڈیلرز ہیں اور آج رات سے ریلیف پیکیج کے تحت پیٹرول فروخت نہیں کریں گے۔ڈیلرز رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے مجوزہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری سرگرمیاں پہلے ہی متاثر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریلیف اسکیم کو کامیاب بنانے کے لیے ڈیلرز سے فوری مذاکرات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو براہ راست پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت دے تو موجودہ مسئلہ بھی ختم ہوسکتا ہے۔ انور کمال نے کہا کہ اسکیم پر عملدرآمد کرانا ہے تو حکومت ڈیلرز کو اعتماد میں لے کر مذاکرات کرے۔



















































